اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! آپ ان لکڑیوں کا کيا کريں گے۔'' ارشاد فرمایا:''میں نے ارادہ کیا کہ ان کے ذریعے علقمہ کوآگ میں جلادوں ۔''انہوں نے عرض کی:''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ميرا دل برداشت نہيں کر سکتا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ميرے بہٹے کو ميرے سامنے آگ ميں جلائيں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے امِ علقمہ! اللہ عزوجل کا عذاب تو اس سے بھی سخت اورباقی رہنے والا ہے۔ اگر آپ کو يہ پسند ہے کہ اللہ عزوجل علقمہ کی مغفرت فرما دے تو آپ ان سے راضی ہوجائیں، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت ميں ميری جان ہے ،علقمہ کو اس کی نماز، روزے اور صدقہ نفع نہ ديں گے جب تک آپ اس سے ناراض رہیں گی۔'' انہوں نے عرض کی:''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ميں اللہ عزوجل اس کے فرشتوں اور یہاں موجود مسلمانوں کو گواہ بناتی ہوں کہ ميں اپنے بہٹے علقمہ سے راضی ہوں۔''
حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے بلال!علقمہ کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کيا اب وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھ سکتا ہے يا نہيں؟'' لہٰذا حضرت سیدنا بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشريف لے گئے اور علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھر کے اندر سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھتے ہوئے سنا، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں داخل ہوئے اور فرمايا:''اے لوگو! بے شک علقمہ کی زبان کو ان کی ماں کی ناراضگی نے کلمہ شہادت پڑھنے سے روک ديا تھا اور اب ماں کی رضا مندی نے ان کی زبان کوکھول ديا ہے۔'' پھر حضرت سیدنا علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی دن وصال فرما گئے۔
سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشريف لائے اور ان کی تجہیزوتکفین کا حکم ارشاد فرمایا۔ پھر ان کی نماز جنازہ پڑھی اورتدفین میں بھی شرکت فرمائی،