Brailvi Books

ضیائے صدقات
59 - 408
سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک قاصد کو یہ پیغام دے کر ان کی والدہ کے پاس بھیجا کہ''اگر آپ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہونے کی قدرت رکھتی ہیں تو چلیں ورنہ گھر ميں ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا انتظار کریں۔''جب قاصد نے جا کر انہیں یہ بتایا تو وہ کہنے لگیں:''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر ميری جان قربان !میں زیادہ حق دارہوں کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوں۔'' وہ عصا کے سہارے کھڑی ہوئیں اورحسن اخلاق کے پیکر، دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ ميں حاضر ہو ئیں اور سلام عرض کيا،سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ، باعث نزول سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سلام کا جواب ديا اورارشاد فرمايا:''اے امِ علقمہ! تمہارے بیٹے علقمہ کا کيا حال ہے؟ انہوں نے عرض کی:''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! وہ بکثرت نماز پڑھنے والا، روزے رکھنے والا اور صدقہ دينے والا ہے۔'' پھر سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا:''اور تمہارا اپنا کيا حال ہے؟'' انہوں نے عرض کی:''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ميں اس پر ناراض ہوں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''کس وجہ سے؟'' انہوں نے عرض کی:''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! وہ اپنی بيوی کو مجھ پر ترجيح ديتا اور ميرے معاملے میں کوتاہی کرتا ہے۔'' شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ماں کی ناراضگی نے علقمہ کی زبان کو کلمہ شہادت سے روک دیا ہے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے بلال! جاؤ اور میرے ليے بہت ساری لکڑياں اکٹھی کرو۔'' علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ نے عرض کی:''یا رسول اللہ صلی