ہشام بن عروہ اپنے والد سے روايت نقل کرتے ہيں کہ انہوں نے بيان کيا، کہ جو اپنے والد کو لعنت کرے وہ ملعون ہے اور جو اپنی ماں کو لعنت کرے وہ بھی ملعون ہے، جو رستے ميں رُکاوٹيں ڈالے وہ بھی ملعون ہے يا نابينا کو راہ سے بہکا دے وہ بھی ملعون ہے، جو اللہ کا نام لئے بغير جانور ذبح کردے وہ بھی ملعون ہے۔۱؎
حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ متقی وپرہیزگار صحابی تھے۔ نماز، روزہ اور صدقہ جيسی عبادات بجا لانے ميں حد درجہ کوشاں رہتے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيمار ہوگئے اور مرض طول پکڑ گيا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ نے سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ عالی ميں پیغام بھیجا کہ''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! ميرا شوہر علقمہ حالتِ نزع ميں ہے، ميں نے چاہا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ان کے حال سے آگاہ کردوں۔چنانچہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا عمار، حضرت سیدنا بلال اور حضرت سیدنا صہيب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھيجا اور ارشاد فرمایا:''ان کے پاس جاؤ اور انہیں کلمہ شہادت کی تلقين کرو۔'' لہٰذا وہ حضرات سیدنا علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے اور انہیں حالت نزع ميں پا کر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی تلقين کرنے لگے، لیکن وہ کلمہ شہادت ادا نہیں کرپارہے تھے۔ ان حضرات نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس صورتِ حال کہلا بھيجی، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا:''کيا ان کے والدين ميں سے کوئی زندہ ہے؟'' عرض کی گئی:''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !ان کی والدہ زندہ ہیں جوکہ بہت بوڑھی ہيں۔'' سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ