Brailvi Books

ضیائے صدقات
57 - 408
تو جو نماز پڑھے مگر زکوٰۃ نہ دے تو اس کی نماز بھی قبول نہ ہوگی،اور دوسری آيت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَاَطِیۡعُوا اللہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ)
 ترجمہ: اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا.[المائدۃ:۵/۹۲] (کنزالايمان)، تو جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے مگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت نہ کرے تو ايسی اِطاعت نا قابلِ قبول ہے، تيسری آيت میں فرمانِ خداوندی ہے:
 (اَنِ اشْکُرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ؕ)
 الآيۃ (ترجمہ:یہ کہ حق مان ميرا اور اپنے ماں باپ کا [لقمان:۳۱/۱۴](کنزالايمان))، لہٰذا جو اللہ کی شکر گزاری تو کرے مگر والدين کی ناشکری کرے تو ايسے شخص کی شکرگزاری قبول نہيں۔۱؎

    والدين کے آداب کے متعلق فرقد سبخی سے مروی ہے فرماتے ہيں، ميں نے بعض کُتب ميں پڑھا ہے کہ اولاد پر لازم ہے والدين کی موجودگی ميں ان کی اجازت کے بغير بات نہ کرے، اور نہ ان سے آگے چلے اور جب تک وہ بلائيں نہيں تو ان کے دائيں بائيں بھی نہ چلے جب بلائيں تو انہيں جواب دے مگر پیچھے پیچھے چلے جيسے غلام اپنے آقا کے پیچھے چلتا ہے۔۲؎

    ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ایک راہ میں ایسے گرم پتھر تھے کہ اگرگوشت کا ٹکڑا ان پر ڈالا جاتا تو کباب ہوجاتا، چھ میل تک اپنی ماں کو اپنی گردن پر سوار کرکے لے گیا ہوں کیا میں ماں کے حقوق سے فارغ ہو گیا ہوں؟ سرکار نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تیرے پیدا ہونے میں درد کے جس قدر جھٹکے اس نے اٹھائے ہیں شاید یہ ان میں سے ایک جھٹکے کا بدلہ ہو سکے۔۳؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (تنبيہ الغافلين، باب حق الوالدين، ص۶۳،۶۴)

۲؎ (تنبيہ الغافلين،باب حق الوالدین،ص۶۴)

۳؎     (المعجم الصغیر،باب من اسمہ ابراہیم،الحدیث۲۵۷، الجزء۱،ص۹۲،دارالکتب العلمیۃ)
Flag Counter