Brailvi Books

ضیائے صدقات
56 - 408
   فقيہ ابو الليث سمرقندی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں، اس حديث ميں اس بات پر دلیل ہے کہ والدين کے ساتھ بھلائی کرنا جہاد سے افضل ہے کيونکہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس شخص کو جہاد ترک کرکے والدين کی خدمت میں مشغول ہونے کا حکم فرمايا۔ اسی طرح ہم بھی کہتے ہيں کہ جب تک والدين اجازت نہ ديں یا جب تک عام نکلنے کا حکم نہ ہو کسی شخص کے ليے یہ جائز نہیں کہ وہ جہاد کے ليے نکلے۔۱؎ (يعنی جب جہاد فرضِ عين ہو تو پھر والدين کی اجازت پر موقوف کرنا درست نہيں)

    مزيد فرماتے ہيں، اگر بالفرض اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام ميں والدين کے احترام کا بيان نہ بھی فرماتا اور ان کے متعلق کوئی حکم نہ ديتا تب بھی عقلاً ان کا ادب و احترام جانا جاتا اور عقلمند پر لازم ہوتا کہ ان کی تعظيم کو جانے اور ان کے حقوق ادا کرے اور کيوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے سبھی کُتُبِ سماويہ تورات، زبور، انجيل اور فرقان ميں والدين کی حُرمت کا تذکرہ فرمايا اور تمام صحيفوں ميں ان کی تعظيم کا حکم ديا اور جملہ انبياء عليہم السلام کو اس بات کی وحی بھی فرمائی اور انہيں والدين کے احترام اور ان کے حقوق جاننے کا حکم ديا اور اپنی رضا کو ان کی رضا پر موقوف فرمايا، اور ان کی ناراضی کو اپنی ناراضی قرار ديا۔ اور کہا جاتا ہے کہ تين آيتيں تين باتوں کے ساتھ نازل ہوئی ہيں کہ اللہ تعالیٰ کسی عمل کو بغير اس سے مِلے ہوئے حکم کے قبول نہ فرمائے گا، پہلی آيت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ )
ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو [البقرۃ:۲/۴۳](کنزالايمان)
 مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (تنبيہ الغافلين، باب حق الوالدين، ص۶۳)
Flag Counter