| ضیائے صدقات |
کرنے کی سعی کرتا رہے اپنے نفيس مال کو ان سے نہ بچائے اُنکے مرنے کے بعد اُن کی وصيتيں جاری کرے اُن کے لئے فاتحہ صدقات تلاوتِ قرآن سے ايصالِ ثواب کرے اللہ تعالیٰ سے اُن کی مغفرت کی دُعا کرے، ہفتہ وار انکی قبر کی زيارت کرے (فتح العزيز) والدين کے ساتھ بھلائی کرنے ميں يہ بھی داخل ہے کہ اگر وہ گناہوں کے عادی ہوں يا کسی بد مذہبی ميں گرفتار ہوں تو اُن کو بہ نرمی اصلاح و تقویٰ اور عقيدہ حقّہ کی طرف لانے کی کوشش کرتا رہے (خازن)''۔
''اچھی بات سے مراد نيکيوں کی ترغيب اور بديوں سے روکنا ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمايا کہ معنی يہ ہيں کہ سيد عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی شان ميں حق اور سچ بات کہو اگر کوئی دريافت کرے تو حضور کے کمالات و اوصاف سچائی کے ساتھ بيان کردو آپ کی خوبياں نہ چھپاؤ''۔۱؎
حديث شريف ميں ہے:عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّيْ أُرِيد الْجِھَادَ، قَالَ: ''أَ حَيٌّ أَبَوَاکَ''؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ''فَفِيھِمَا فَجَاھِدْ''.۲؎
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، فرماتے ہيں، ايک شخص نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر ہوکر جہاد کی اجازت چاہی، تو آپ نے فرمايا، کيا تيرے والدين زندہ ہيں؟ عرض کی، جی زندہ ہيں، فرمايا، ان کی خدمت کر یہی تیرا جہاد ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان) ۲؎ (صحيح البخاري،کتاب الجھاد والسير، باب الجھاد بإذن الأبوين،الحديث:۳۰۰۴،ج۲، ص۲۷۱)