وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنۡۢبِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾
ترجمہ کنزالايمان: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شريک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور يتيموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گير اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش نہيں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا۔ (النساء:۴/۳۶)
اس آیہ کریمہ میں فرمان ''ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو'' کی تفسیر فرماتے ہوئے صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی صاحب متوفی ۱۳۶۷ھ فرماتے ہیں،
''اَدب و تعظيم کے ساتھ اور ان (يعنی والدين) کی خدمت ميں مستعد رہنا اور ان پر خرچ کرنے ميں کمی نہ کرو مسلم شريف کی حديث ہے سیّدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تين مرتبہ فرمايا اسکی ناک خاک آلود ہو حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کيا کِس کی يا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فرمايا:'' جس نے بوڑھے ماں باپ پائے يا اُن ميں سے کسی ايک کو پايا اور جنّتی نہ ہوگيا''۔
حديث شريف ميں ہے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں کی