Brailvi Books

ضیائے صدقات
51 - 408
أَعْطَيتکُمَا، وَلَا حَظَّ فِيھَا لِغَنِيٍّ وَّلَا لِقَوِيٍّ مُکْتَسِبٍ''.۱؎
ہم کو تندرست و توانا ديکھا تو فرمايا کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں مگر اس ميں نہ تو غنی کا حصہ ہے نہ کمائی کے لائق تندرست کا۔

    حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حصہ حدیث ''صدقہ تقسیم فرما رہے تھے'' کے تحت فرماتے ہیں '' ظاہر يہ ہے کہ صدقہ فرض يعنی زکوٰۃ ہوگا اور حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ ميں حجاج نے اپنی زکوٰۃ تقسيم کے لئے پيش کی ہوگی، جيسا کہ صحابہ کا دستور تھا''۔

    مزید فرماتے ہیں''اس ميں دونوں (جو سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے صدقہ طلب کرتے تھے،) کو تقویٰ و طہارت کی تعليم ہے يعنی چونکہ تم دونوں اگرچہ فقير ہو مگر تندرست اور کمانے کے لائق ہو اس لئے اس سے لينا تمہارے لائق نہيں، اگر ان کو يہ صدقہ لينا حرام ہوتا جيسا کہ حضرت امام شافعی فرماتے ہيں تو حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم يہ نہ فرماتے کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں، اس اختيار دينے سے معلوم ہورہا ہے کہ دينا جائز تو ہے مگر بہتر نہيں''۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب من يعطی من الصدقۃ وحدّ الغنی،الحديث: ۱۶۳۳،ج۲،ص۱۹۵)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب مسألۃ القوي المکتسب،الحديث: ۲۵۹۷،الجزء۵،ج۳،ص۱۰۵)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب من لا تحل لہ الصدقۃ، الفصل الثاني،الحديث: ۱۸۳۲،ج۱،ص۳۴۸)

۲؎ (مرآۃ المناجيح، ج۳، ص۵۱)
Flag Counter