Brailvi Books

ضیائے صدقات
50 - 408
    سرکار عليہ الصلوٰۃ والسلام ہديہ و نذرانہ کا کھانا خود بھی کھاتے اور موجود صحابہ کو بھی اپنے ہمراہ کھلاتے تھے۔ خيال رہے کہ غنی اور سيد کو صدقہ نفل لينا جائز ہے وہ صدقہ ان کے لئے ہديہ بن جاتا ہے مگر حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم صدقہ نفل بھی نہ ليتے تھے کيونکہ اس ميں صدقہ دينے والا لينے والے پر رحم وکرم کرتا ہے جس کا ثواب اللہ سے چاہتا ہے سب حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رحم کے خواستگار ہيں حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر کون انسان رحم کرتا ہے، ہاں صدقہ جاريہ جيسے کنوئيں کا پانی، مسجد و قبرستان کی زمين اس کا حکم دوسرا ہے کہ يہ غنی وفقير بلکہ خود صدقہ کرنے والے واقف کو بھی اس کا استعمال جائز ہے، يہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے بھی مباح تھا (از مرقات وغيرہ)۔۱؎

    ايک اور حديث شريف ميں ہے:
عَنْ عُبَيد اللہِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخَيارِ، قَالَ: أَخْبَرَنِيْ رَجُلَانِ أَنَّھُمَا أَتَيا النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ فِيْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، وَھُوَ يقَسِّمُ الصَّدَقَۃَ، فَسَأَلَاہُ مِنْھَا، فَرَفَعَ فِينا النَّظْرَ، وَخَفَضَہُ فَرَآنَا جَلْدَينِ، فَقَالَ: ''إِنْ شِئْتُمَا
حضرت عبيد اللہ بن عدی بن خيار سے مروی ہے، فرماتے ہيں کہ مجھے دو شخصوں نے خبر دی کہ وہ دونوں سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت ميں حجۃ الوداع کے موقع پر حاضر ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم صدقہ تقسيم فرمارہے تھے انہوں نے بھی حضور سے صدقہ مانگا تو حضور نے ہم پر نظر اُٹھائی پھر جھکائی
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (مرآۃ المناجيح، ج۳، ص۴۷)
Flag Counter