فرماتے کھالو، اور خود نہ کھاتے اور اگر عرض کیا جاتا کہ ہديہ ہے تو ہاتھ شريف بڑھاتے اور اُن کے ساتھ کھاتے۔
غنی صحابہ اپنے واجب ونفلی صدقہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت ميں پيش کرتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنے ہاتھ سے غربا ميں تقسيم فرماديں کہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے رب تعالیٰ قبول فرمائے حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اصحاب صفہ وغيرہ فقراء وصحابہ پر تقسيم فرماديتے تھے، اور بعض لوگ خود حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے ہديہ ونذرانہ لاتے تھے، چونکہ دو قسم کے مال حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آتے تھے، اس لئے اگر لانے والا صاف صاف نہ کہتا، تو سرکار خود پوچھ ليتے تھے۔ ہديہ سے خود بھی کھاليتے تھے مگر صدقہ خود استعمال نہ فرماتے تھے۔ يہاں صحابہ سے مراد فقراء صحابہ ہيں جو صدقہ واجبہ لے سکتے ہيں حضرت عثمان غنی وغيرہم غنی صحابہ مراد نہيں۔