Brailvi Books

ضیائے صدقات
49 - 408
بِيدہِ فَأَکَلَ مَعَھُمْ.۱؎
فرماتے کھالو، اور خود نہ کھاتے اور اگر عرض کیا جاتا کہ ہديہ ہے تو ہاتھ شريف بڑھاتے اور اُن کے ساتھ کھاتے۔

    غنی صحابہ اپنے واجب ونفلی صدقہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت ميں پيش کرتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنے ہاتھ سے غربا ميں تقسيم فرماديں کہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے رب تعالیٰ قبول فرمائے حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اصحاب صفہ وغيرہ فقراء وصحابہ پر تقسيم فرماديتے تھے، اور بعض لوگ خود حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے ہديہ ونذرانہ لاتے تھے، چونکہ دو قسم کے مال حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آتے تھے، اس لئے اگر لانے والا صاف صاف نہ کہتا، تو سرکار خود پوچھ ليتے تھے۔ ہديہ سے خود بھی کھاليتے تھے مگر صدقہ خود استعمال نہ فرماتے تھے۔ يہاں صحابہ سے مراد فقراء صحابہ ہيں جو صدقہ واجبہ لے سکتے ہيں حضرت عثمان غنی وغيرہم غنی صحابہ مراد نہيں۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (صحيح البخاري،کتاب الھبۃ وفضلھا والتحريض عليھا، باب قبول الھديۃ،الحديث: ۲۵۷۶،ج۲،ص۱۴۹)                        

(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم الھديۃ وردّہ الصدقۃَ،الحديث: ۱۷۵۔(۱۰۷۷)،ص۳۸۸)

(سنن الترمذي،کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في کراھيۃ الصدقۃ للنبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم وأھل بيتہ ومواليہ، الحديث: ۶۵۶،ج۱،ص۴۷۳)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب الصدقۃ لا تحل للنبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم،الحديث: ۲۶۱۲،الجزء۵،ج۳،ص۱۱۳)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ الصدقۃ، الفصل الأول،الحديث: ۱۸۲۴،ج۱،ص۳۴۷)
Flag Counter