Brailvi Books

ضیائے صدقات
48 - 408
    مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ '' صدقات لوگوں کے میل ہیں ''کے تحت فرماتے ہیں ''اس طرح کہ زکوٰۃ فطرہ نکل جانے سے لوگوں کے مال اور دل پاک وصاف ہوتے ہيں جيسے ميل نکل جانے سے جسم يا کپڑا، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
 (خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا)
 ترجمہ: اے محبوب ان کے مال ميں سے زکوٰۃ تحصيل کرو جس سے تم انہيں ستھرا اور پاکيزہ کردو [التوبۃ:۹/۱۰۳](کنزالايمان) لہٰذا يہ مسلمانوں کا دھوون ہے''۔

    ''يہ حديث ايسی واضح اور صاف ہے جس ميں کوئی تاويل نہيں ہوسکتی، يعنی مجھے اور ميری اولاد کو زکوٰۃ لينا اس لئے حرام ہے کہ يہ مال کا ميل ہے لوگ ہمارے ميل سے ستھرے ہوں ہم کسی کا ميل کيوں ليں۔ اب بعض کا کہنا کہ چونکہ سادات کو خمس نہيں ملتا اس لئے اب وہ زکوٰۃ لے سکتے ہيں غلط ہے کہ نص کے مقابل چونکہ اورکيونکہ نہيں سُنا جاتا''۔۱؎

    ايک اور حديث ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْہُ ''أَھَدْيۃٌ أَمْ صَدَقَۃٌ''؟ فَإِنْ قِيل: صَدَقَۃٌ؛ قَالَ لِأَصْحَابِہِ: ''کُلُوْا''، وَلَمْ ياکُلْ، وَإِنْ قِيل: ھَدْيۃٌ، ضَرَبَ
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس جب کوئی کھانا لايا جاتا تو اس کے متعلق پوچھتے کہ آيا يہ ہديہ ہے ياصدقہ، اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو صحابہ سے
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۳،ص۴۶)
Flag Counter