| ضیائے صدقات |
فتویٰ ہے، بعض لوگ جو کہتے ہيں کہ يہ حکم اس زمانہ ميں تھا اب سيد زکوٰۃ لے سکتے ہيں ياسيد کی زکوٰۃ سيد لے سکتے ہيں، يہ تمام مرجوع قول ہيں، فتویٰ اس پر نہيں خيال رہے کہ بنی ہاشم سے مراد آل عباس، آل جعفر، آل عقيل، آل حارث بن مطلب اور آل رسول ہيں ابو لہب کی مسلمان اولاد اگرچہ بنی ہاشم تو ہيں مگر يہ زکوٰۃ لے سکتے تھے اور لے سکتے ہيں، کيونکہ زکوٰۃ کی حرمت کرامت و عزّت کے لئے ہے، ابو لہب حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ايذاء کی کوشش ميں رہا اسی لئے وہ اور اس کی اولاد اس عظمت کی مستحق نہ ہوئی (از لمعات) اس حديث سے معلوم ہوا کہ اپنی ناسمجھ اولاد کو بھی ناجائز کام نہ کرنے دے وہ ديکھو حضرت حسن اس وقت بہت ہی کمسن اور ناسمجھ تھے جيسا کہ کخ کخ فرمانے سے معلوم ہورہا ہے مگر حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انہيں بھی زکوٰۃ کا چھوہارا نہ کھانے ديا''۔۱؎
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ ھٰذِہِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا ھِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّھَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ''.۲؎
حضرت عبد المطلب بن ربيعہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں،خاتم المرسلین، رحمۃللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ رب العلمین، جنابِ صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، يہ صدقات لوگوں کے ميل ہی ہيں، نہ يہ محمد کو حلال ہيں اور نہ محمد کی آل کو۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح، ج۳، ص۴۶) ۲؎ (صحيح مسلم، کتابالزکاۃ، باب ترک استعمال آل النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم علی الصدقۃ، الحديث: ۱۶۸۔(۱۰۷۲)، ص۳۸۷) (سنن النسائي،کتاب الزکاۃ، باب استعمال آل النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم علی الصدقۃ،الحديث: ۲۶۰۸،الجزء۵،ج۳،ص۱۱۱) (مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ الصدقہ، الفصل الأول،الحديث: ۱۸۲۳،ج۱،ص۳۴۷)