Brailvi Books

ضیائے صدقات
46 - 408
تو وہ (يعنی ان کو زکوٰۃ دينا) اس لئے ممنوع ہے کہ مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام نے آپ سے پوچھا، کہ کيا ميرے لئے صدقہ لينا جائز ہے؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، نہيں تم ہمارے آزاد کردہ غلام ہو۔

    حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ قَالَ: أَخَذَ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مِنْ تَمَرِ الصَّدَقَۃِ فَجَعَلَھَا فِيْ فَيہ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''کِخْ کِخْ'' لِيطْرَحَھَا، ثُمَّ قَالَ: ''أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ''؟!.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے صدقے کے چھوہاروں ميں سے ايک چھوہارا لے کر اپنے منہ ميں ڈال ليا تو نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، کخ کخ تاکہ وہ اسے تھوک ديں پھر فرمايا، کيا تمہيں خبر نہيں کہ ہم صدقہ نہيں کھايا کرتے۔

    ''اس حديث نے فيصلہ فرماديا کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی اولاد کو زکوٰۃ لينا حرام ہے أَنَّا جمع فرما کر تاقيامت اپنی اولاد کو شامل فرماليا، يہ ہی حق ہے اسی پر
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ، باب ما يذکر في الصدقۃ للنبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم، الحديث: ۱۴۹۱،ج۱،ص۳۶۷)

(صحيح مسلم، کتابالزکاۃ،باب تحريم الزکاۃ علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم... إلخ، الحديث: ۱۶۱۔(۱۰۶۹) ص۳۷۶،)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ الصدقۃ، الفصل الأول، الحديث: ۱۸۲۲،ج۱،ص۳۴۶۔۳۴۷،)
Flag Counter