Brailvi Books

ضیائے صدقات
45 - 408
بخلاف التطوع؛ لأن المال ھھنا کالماء يتدنس بإسقاط الفرض. أما التطوع فبمنزلۃ التبرد بالماء.۱؎                                                                                                                                                                                                                          اور صدقات (واجبہ) بنی ہاشم کو نہ دئي جائيں کيونکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا:'' اے بنو ہاشم بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر لوگوں کا دھوون ، ان کے اوساخ(يعنی ميل) حرام فرمائے ہيں اور تمہارے لئے اس کے بدلے غنيمت کا پانچواں حصہ مقرر فرمايا۔'' بخلاف نفلی صدقات کے، کيونکہ مال زکوٰۃ کی صورت ميں اس پانی کی مثل ہے جوفرض ساقط ہونے سے ميلا ہوتا ہے، جبکہ نفلی صدقہ کا معاملہ پانی سے ٹھنڈک حاصل کرنے کي مقام ميں ہے۔

    اور بنو ہاشم کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ مرغينانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں
(وھم آل عليّ وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل حارث بن عبد المطلب ومواليھم) أما ھؤلاء فلأنّھم ينسبون إلی ھاشم بن عبد مناف، ونسبۃ القبيلۃ إليہ. وأما مواليھم فلما روي أن مولی لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سألہ أتحل لي الصدقۃ؟ فقال: ''لا، أنت مولانا''.۲؎
    يعنی، بنو ہاشم اولادِ علی، اولاد عباس، اولادِ جعفر، اولاد عقيل، اولاد حارث بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعين اور ان کے آزاد کردہ غلام ہيں۔ جہاں تک تعلق بنی ہاشم کا ہے تو اس کی وجہ ان کا ہاشم بن عبد مناف کی جانب منسوب ہوناہے، اور قبیلہ کی نسبت بھی ہاشم بن عبد مناف کی جانب ہے۔ اور رہا سوال ان کے آزاد کردہ غلاموں کا
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (الھدايۃ،کتاب الزکاۃ، باب من يجوز دفع الصدقۃ إليہ ومن لا يجوز،الجزء۱،ج۱،ص۱۲۰)

۲؎ (الھدايۃ،کتاب الزکاۃ، باب من يجوز دفع الصدقۃ إليہ ومن لا يجوز،الجزء۱،ج۱،ص۱۲۰)
Flag Counter