يعنی، مصارفِ زکاۃ ميں اصل (دليل) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، زکوٰۃ تو انہيں لوگوں کے لئے ہے محتاج اور نرے نادار (کنزالايمان) ، تو يہ آٹھ مصارف ہيں اور ان مصارف سے المؤلفۃ قلوبھم، يعنی، جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے، ساقط ہوگيا کيونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزّت بخشی اور ان لوگوں سے غنی فرماديا اور اسی پر اجماع ہے۔ فقير وہ ہے جس کے پاس ادنی چيز ہو اور مسکين وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، يہ فرمان امام اعظم ابو حنيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، جبکہ (فقير و مسکين کی تعريف ميں) اس کے برعکس بھی فرماياگيا۔
بنی ہاشم ساداتِ کرام کو صدقہ دينا جائز نہيں،
چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغينانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں
(ولا تدفع إلی بني ھاشم) لقولہ عليہ الصلاۃ والسلام: ''يا بني ھاشم إن اللہَ تعالیٰ حرم عليکم غسالۃ الناس وأوساخھم وعوّضکم منھا بخمس الخمس''،
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (الھدايۃ،کتاب الزکاۃ، باب من يجوز دفع الصدقۃ إليہ ومن لا يجوز،الجزء۱،ج۱ ص۱۲۰)