| ضیائے صدقات |
نيت سے لئے تو واجب ہوگئی۔۱؎ (۲۵)مالکِ نصاب کو درميان سال ميں کچھ مال حاصل ہوا اور اس کے پاس دو نصابيں ہيں اور دونوں کا جدا جدا سال ہے تو جو مال درميان سال ميں حاصل ہوا اسے اس کے ساتھ ملائے جس کی زکوٰۃ پہلے واجب ہو مثلاً اس کے پاس ايک ہزار روپے ہيں اور سائمہ (جانور) کی قيمت جس کی زکوٰۃ دے چکا تھا کہ دونوں ملائے نہيں جائيں گے۔ اب درميان سال ميں ايک ہزار روپے اور حاصل کئے تو ان کا سال تمام اس وقت ہے جب ان دونوں ميں پہلے کا ہو۔۲؎
زکوۃ کسے دی جائے؟
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام ميں آٹھ مصارفِ زکوٰۃ بيان فرمائے ہيں:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیۡنَ وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ
ترجمہ کنزالايمان: زکوٰۃ تو انہيں لوگوں کے لئے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصيل کرکے لائيں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنيں چھوڑانے ميں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ ميں اور مسافر کو ۔(التوبۃ:۹/۶۰)
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (بہارِ شريعت، حصہ پنجم، ص۱۳) ۲؎ (بہارِ شريعت، حصہ پنجم، ص۱۴)