Brailvi Books

ضیائے صدقات
41 - 408
(۱۷)جو دَين (قرض) ميعادی ہو وہ صحيح مذہب ميں وجوبِ زکوٰۃ کا مانع نہيں۔ (يعنی زکوٰۃ کا حساب لگاتے وقت ميعادی قرضوں کو نصاب سے مِنْہا نہيں کيا جائے گا)۔۱؎

(۱۸)ايسی چيز خريدی جس سے کوئی کام کریگا اور کام ميں اس کا اثر باقی رہے گا جيسے چمڑا پکانے کے لئے مازو(دوا) اور تيل وغيرہ اگر اس پر سال گزرگيا تو زکوٰۃ واجب ہے۔ يونہی رنگريز نے اُجرت پر کپڑا رنگنے کے لئے کسم، زعفران خريدا تو اگر بقدرِ نصاب ہے اور سال گزر گيا تو زکوٰۃ واجب ہے۔ پڑيا وغيرہ رنگ کا بھی يہی حکم ہے اور اگر وہ ايسی چيز ہے جس کا اثر باقی نہ رہے گا جيسے صابون تو اگرچہ بقدرِ نصاب ہو اور سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب نہيں۔ عطر فروش نے عطر بيچنے کے لئے شيشياں خريديں، ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔۲؎

(۱۹)خرچ کے لئے روپے کے پيسے لئے تو يہ بھی حاجتِ اصليہ ميں ہيں۔ حاجت اصليہ ميں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہيں تو سال ميں جو کچھ خرچ کيا اور جو باقی رہے اگر بقدرِ نصاب ہيں تو ان کی زکوٰۃ واجب ہے اگرچہ اسی نيت سے رکھے ہيں کہ آئندہ حاجت اصليہ ہی ميں صرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجت اصليہ ميں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکوٰۃ واجب نہيں۔۳؎

(۲۰)اہلِ علم کے لئے کتابيں حاجت اصليہ سے ہيں اور غير اہل کے پاس ہوں جب بھی کتابوں کی زکوٰۃ واجب نہيں جب کہ تجارت کے لئے نہ ہو۔ فرق اتنا ہے کہ اہلِ علم کے پاس ان کتابوں کے علاوہ اگر مال بقدرِ نصاب نہ ہو تو زکوٰۃ لينا جائز
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (بہارِ شريعت، حصہ پنجم، ص۱۰)

۲؎ (بہارِ شريعت، حصہ پنجم، ص۱۱)

۳؎ (بہارِ شريعت، حصہ پنجم، ص۱۱)
Flag Counter