پاس گواہ موجود ہيں تو جب مال ملے گا سالہائے گزشتہ کی بھی زکوٰۃواجب ہے۔۱؎
(۱۳)ايک نے دوسرے کے مثلاً ہزار روپے غصب کرلئے پھر وہی روپے اس سے کسی اور نے غصب کرکے خرچ کرڈالے اور ان دونوں غاصبوں کے پاس ہزار ہزارروپے اپنی مِلک کے ہيں تو غاصبِ اوّل پر زکوٰۃ واجب ہے دوسرے پر نہيں۔۲؎
(۱۴)شے مرہون (گروی رکھی گئی چيز) کی زکوٰۃ نہ مرتہن (جس کے پاس رہن رکھا گيا ہے) پر ہے نہ راہن (جس نے رہن رکھوايا ہے) پر۔ مرتہن تو مالک ہی نہيں اور راہن کی مِلک تام (مکمل) نہيں کہ اس کے قبضہ ميں نہيں اور بعد رہن چھُڑانے کے بھی ان برسوں کی زکوٰۃ واجب (يعنی فرض) نہيں۔۳؎
(۱۵)جو مال تجارت کے لئے خريدا اور سال بھر تک اس پر قبضہ نہ کيا تو قبضہ سے قبل مشتری (خريدار) پر زکوٰۃ واجب (يعنی فرض) نہيں اور قبضہ کے بعد اس سال کی بھی زکوٰۃ واجب (يعنی فرض) ہے۔۴؎
(۱۶)نصاب کا مالک ہے مگر اس پر دَين (یعنی قرض) ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہيں رہتی تو زکوٰۃ واجب (يعنی فرض) نہيں۔۵؎