Brailvi Books

ضیائے صدقات
401 - 408
    ايک اور حديث شريف:
عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اِسْتَعْمَلَنِيْ عُمَرُ عَلَی الصَّدَقَۃِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْھَا وَأَدَّيتُھَا إِلَيہ، أَمَرَ لِيْ بِعُمَالَۃٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلّٰہِ، وَأَجْرِيْ عَلَی اللہِ،قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ، فَإِنِّيْ قَدْ عَمِلْتُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِيْ، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِکَ، فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''إِذَا أُعْطِيت شَيئًا مِنْ غَير أَنْ تَسْأَلَہُ فَکُلْ وَتَصَدَّقْ''.۱؎
حضرت ابن ساعدی سے مروی ہے، فرماتے ہيں، مجھے حضرت عمر نے صدقہ پر عامل بنايا، جب ميں اس سے فارغ ہوا اور صدقہ آپ کی خدمت ميں ادا کرديا تو آپ نے میرے لئے اُجرت کا حکم ديا ميں نے عرض کياکہ ميں نے اللہ کیلئے کام کيا ہے مير ا اجر اللہ عزوجل (کے ذمہ کرم) پر ہے، تو آپ نے فرمايا: جو تمہيں ديا جائے وہ لے لو، ميں نے بھی زمانہ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ميں يہ کام کيا تھاتو مجھے حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجرت دی ميں نے بھی تمہاری طرح عرض کیا تھا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو کچھ تمہيں بغير مانگے ملے وہ کھالو اور صدقہ کرو۔

    مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:حضرت ابن ساعدی کا يہ خيال تھا کہ اُجرت لے لينے سے ثواب جاتا رہے گا اور ميں نے يہ کام ثواب کے لئے کيا ہے اس لئے قبول سے انکار کيا۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف،الحديث:۱۶۴۷،ج۲،ص۲۰۳)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث:۱۸۵۴، ج۱،ص۳۵۲)
Flag Counter