Brailvi Books

ضیائے صدقات
402 - 408
    '' جو کچھ تمہيں بغير مانگے ملے وہ کھالو اور صدقہ کرو۔''اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:سبحان اللہ کيا پياری تعليم ہے، مقصد يہ ہے کہ بغير مانگے جو رب دے اُسے نہ لينا اللہ کی نعمت کا ٹھکرانا ہے جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے لہٰذا يہ ضرور لے لو اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے، ايک يہ کہ نيک اعمال کی اُجرت لينا جائز ہے، چنانچہ علماء، قاضی، مدرسين، حتی کہ خود خليفہ کی تنخواہ بيت المال سے دی جائے گی سوائے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باقی تينوں خلفاء نے بيت المال سے خلافت کی تنخواہ وصول کی ہے، دوسرے يہ کہ جب کام کرنے والے کی نيت خير ہو تو تنخواہ لينے سے ان شاء اللہ ثواب کم نہ ہوگا، صرف تنخواہ کے لئے دينی کام نہ کرے تنخواہ تو گزارے کے لئے وصول کرے اصل مقصد دينی خدمت ہو، تيسرے يہ کہ غنی بھی يہ اُجرتيں لے سکتا ہے صرف فقير ہی کو اجازت نہيں۔ پھر لے کر خود بھی کھا سکتا ہے اس سے خيرات بھی کرسکتا ہے خيال رہے کہ امام احمد کے ہاں ہديہ قبول کرنا واجب ہے اس حديث کی بنا پر باقی جمہور علماء کے ہاں يہ حکم استحبابی ہے۔مرقات نے اس جگہ فرمايا کہ سلطان اسلام پر واجب ہے کہ ايسے علمائ، مفتيوں، مدرسوں کی تنخواہيں مقرر کرے جنہوں نے اپنے کو دينی خدمات کے لئے وقف کرديا ہو۔۱؎

    امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:مکہ مکرمہ کے ايک مجاور بتاتے ہيں کہ ميرے پاس کچھ درہم تھے جو ميں نے راہ خدا ميں خرچ کرنے کے لئے رکھے ہوئے تھے ایک دن ميں نے ايک فقير کو سنا جو طواف سے فارغ ہوچکا تھا اور آہستہ آواز سے کہہ رہا تھا ميں بھوکا ہوں جيسا کہ تو جانتا ہے ميں ننگا ہوں جيسا کہ تو ديکھتا ہے اے وہ کہ
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۶۶۔۶۷)
Flag Counter