Brailvi Books

ضیائے صدقات
400 - 408
    ايک اور حديث شريف میں ہے:
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُھَنِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يقُوْلُ: ''مَنْ بَلَغَہُ مَعْرُوْفٌ عَنْ أَخِيہ مِنْ غَير مَسْأَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيقْبَلْہُ، وَلَا يردُّہُ فَإِنَّمَا ھُوَ رِزْقٌ سَاقَہُ اللہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَيہ''.۱؎
حضرت خالد بن عدی جُہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: ميں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: جسے اس کے بھائی کے ذريعہ کوئی چيز بغير مانگے اور بغير حرص کے پہنچے تو اُسے چاہے کہ قبول کرلے اوررد نہ کرے کہ وہ تو رزق ہے جو اللہ عزوجل نے اس کی طرف بھيجا۔

    لہٰذا بغير سُوال کے ملنے والی چيز کے لينے ميں کوئی حرج نہيں جبکہ اس چيز کی طرف اُسے حرص و طمع نہ ہو البتہ اگر دينے والے کی دل جوئی کے لئے لے تو ليا ليکن اس چيز کی اسے ضرورت نہیں تو کسی کو تحفۃً دےدے يا صدقہ کردے، چنانچہ:
عَنْ عَاءِذِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَنْ عُرِضَ لَہُ شَيْءٌ مِنْ ھٰذَا الرِّزْقِ مِنْ غَير مَسْأَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيوسِّعْ بِہِ فِيْ رِزْقِہِ فَإِنْ کَانَ عَنْہُ غَنِيا فَلْيوجِّھْہُ إِلٰی مَنْ ہُوَ أَحْوَجَ إِلَيہ مِنْہُ''.۲؎
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت نقل کرتے ہيں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جسے اس رزق سے بغير مانگے اوربغير حرص کے کچھ پیش کیا جائے تو اسے چاہے کہ اس کے ذریعہ اپنے رزق میں وسعت کرے پھر اگر خود غنی وغیر محتاج ہو تو اپنے سے زيادہ حاجت مند کو دے دے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (المسند للإمام أحمد بن حنبل،مسند خالد بن عدي الجھني،الحديث:۱۸۱۰۱،ج۶،ص۱۵۴)

۲؎    (المسند للإمام أحمدبن حنبل،مسند عائذ بن عمرو،الحديث:۲۰۹۲۴،ج۶،ص۸۸۷)
Flag Counter