Brailvi Books

ضیائے صدقات
399 - 408
مَسْأَلَۃٍ، فَإِنَّمَا ھُوَ رِزْقٌ يرزُقُکَہُ اللہُ'' فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: أَمَا وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيدِہِ لَا أَسْأَلُ أَحَداً شَيئًا، وَلَا ياتِينِيْ شَيْءٌ مِنْ غَير مَسْأَلَۃٍ إِلَّا أَخَذْتُہُ.۱؎
ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت ميں ميری جان ہے کہ میں کبھی کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بغير مانگے مِلے گا تو لے ليا کروں گا۔

    اسی ضمن میں ایک اورحدیث شریف:
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلٰی عَاءِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْھَا بِنَفْقَۃٍ وَکِسْوَۃٍ، فَقَالَتْ لِرَسُوْلِہِ: يا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيئًا، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ: رُدُّوْہُ عَلَيَّ، قَالَ: فَرَدَّہُ فَقَالَتْ: إِنِّيْ ذَکَرْتُ شَيئًا، قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''يا عَاءِشَۃُ مَنْ أَعْطیٰ عَطَائً بِغَير مَسْأَلَۃٍ فَاقْبَلِيہ فَإِنَّمَا ھُوَ رِزْقٌ سَاقَہُ اللہُ إِلِيک''.۲؎
مطلب بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عامر نے ام المومنين سےدہ عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کچھ خرچ و لباس بھفيجا تو آپ نے قاصد سے فرمايا: اے بہٹا! ميں کسی سے کچھ نہيں ليتی۔ جب قاصد جانے لگا تو آپ نے فرمايا: یہ تحائف مجھے دے دو۔ راوی فرماتے ہیں:تو اُس (لانے والے) نے اسے آپ کی بارگاہِ عاليہ ميں پیش کر ديا، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمايا: مجھے ياد آگياکہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اے عائشہ!جو تمہيں بغير مانگے کچھ دے تو قبول کرليا کرو کہ وہ تو رزق ہے جو اللہ نے تمہاری طرف بھیجا۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (المؤطا للإمام مالک،کتاب الصدقۃ،باب ما جاء في التعفف عن المسألۃ،الحديث:۱۸۸۲،ص۵۵۷)

۲؎    (شعب الإيمان،باب في الزکاۃ،فصل فيمن أتاہ اللہ مالاً من غير مسألۃ،الحديث:۳۵۵۵،ج۳،ص۲۸۲)
Flag Counter