(۱۰) مالک کرنے ميں يہ بھی ضروری ہے کہ ايسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو يعنی ايسا نہ ہو کہ پھینک دے يا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہوگی مثلاً نہايت چھوٹے بچہ يا پاگل کو دينا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اس کی طرف سے اس کا باپ جو فقير ہو يا وصی يا جس کی نگرانی ميں ہے قبضہ کريں۔۲؎
(۱۱)جو مال گم گيا يا دريا ميں گرگيا يا کسی نے غصب کرليا اور اس کے پاس غصب کے گواہ نہ ہوں يا جنگل ميں دفن کرديا تھا اور يہ ياد نہ رہا کہ کہاں دفن کيا تھا، يا انجان کے پاس امانت رکھی تھی اور يہ ياد نہ رہا کہ وہ کون ہے يا مديون (مقروض) نے دَين (قرض) سے انکار کرديا اور اس کے پاس گواہ نہيں پھر يہ اموال مل گئے تو جب تک نہ ملے تھے اس زمانے کی زکوٰۃ واجب نہيں۔۳؎
(۱۲)اگر دين (قرض) ايسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا ميں دير کرتا ہے يا نادار ہے يا قاضی کے يہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہوچکا يا وہ منکر ہے مگر اس کے