Brailvi Books

ضیائے صدقات
39 - 408
(۹)بنيادی خرچہ، رہائش کے مکان، جنگی سامان، سردی گرمی سے بچنے کے لئے جن کپڑوں کی ضرورت ہو،ان پر زکوٰۃ نہيں کيونکہ يہ سب انسان کی حاجاتِ اصليہ سے ہيں۔ چنانچہ علامہ ابن عابدين شامی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفی ۱۲۵۲ھ حاجاتِ اصليہ کی تفسير ميں فرماتے ہيں،
وھي ما يدفع الھلاک عن الإنسان تحقیقاً کالنفقۃ ودور السکنی وآلات الحرب والثياب المحتاج إليھا لدفع الحَرّ أو البرد.۱؎
 (۱۰) مالک کرنے ميں يہ بھی ضروری ہے کہ ايسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو يعنی ايسا نہ ہو کہ پھینک دے يا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہوگی مثلاً نہايت چھوٹے بچہ يا پاگل کو دينا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اس کی طرف سے اس کا باپ جو فقير ہو يا وصی يا جس کی نگرانی ميں ہے قبضہ کريں۔۲؎

(۱۱)جو مال گم گيا يا دريا ميں گرگيا يا کسی نے غصب کرليا اور اس کے پاس غصب کے گواہ نہ ہوں يا جنگل ميں دفن کرديا تھا اور يہ ياد نہ رہا کہ کہاں دفن کيا تھا، يا انجان کے پاس امانت رکھی تھی اور يہ ياد نہ رہا کہ وہ کون ہے يا مديون (مقروض) نے دَين (قرض) سے انکار کرديا اور اس کے پاس گواہ نہيں پھر يہ اموال مل گئے تو جب تک نہ ملے تھے اس زمانے کی زکوٰۃ واجب نہيں۔۳؎

(۱۲)اگر دين (قرض) ايسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا ميں دير کرتا ہے يا نادار ہے يا قاضی کے يہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہوچکا يا وہ منکر ہے مگر اس کے
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، مطلب: في زکاۃ ثمن المَبِيع وفاء،ج۳، ص۲۱۳) 

۲؎ (بہارِ شريعت بحوالہ در مختار و رد المحتار، حصہ پنجم، ص۸)

۳؎ (بہارِ شريعت بحوالہ در مختار ورد المحتار، حصہ پنجم، ص۹)
Flag Counter