| ضیائے صدقات |
عَنْ أَبِیْ سَعِيد الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: يا رَسُوْلَ اللہِ لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَاناً وَفُلَاناً يحسِنَانِ الثَّنَاءَ يذْکُرَانِ أَنَّکَ أَعْطَيتھُمَا دِينارَين. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :''وَاللہِ لٰکِنَّ فُلَاناً مَا ھُوَ کَذٰلِکَ لَقَدْ أَعْطَيتہُ مَا بَين عَشْرَۃٍ إِلٰی مِائَۃٍ فَمَا يقوْلُ ذٰلِکَ أَمَا وَاللہِ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَيخرِجُ مَسْأَلَتَہُ مِنْ عِنْدِيْ يتأَ بَّطُھَا'' يعْنِيْ تَکُوْنُ تَحْتَ إِبْطِہِ نَاراً، فَقَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: يا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَ تُعْطِيھَا إِياھُمْ؟ قَالَ:''فَمَا أَصْنَعُ؟ يابَوْنَ إِلَّا ذٰلِکَ، وَيابَی اللہُ لِيَ الْبُخْلَ''.۱؎
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! میں نے فلاں، فلاں کو سنا وہ بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دو دینار عطا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں:تو نبی کریم رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل کی قسم! فلاں کا معاملہ تو ایسا نہیں، میں نے تو اسے دس سے سوکے درمیان دیئے ہیں وہ ایسا کیوں کہتا ہے؟ اللہ عزوجل کی قسم! تم میں سے کوئی مجھ سے اپنی مطلوبہ شے بغل میں دبائے لے جاتا ہے،یعنی اس کی بغل کے نیچے آگ ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! تو پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم انہیں کیوں عطا کرتے ہیں؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کیا کروں؟ وہ اس کے بغیر راضی نہیں اور اللہ تعالیٰ میرے ليے بخل کو ناپسند فرماتا ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (الأحاديث المختارۃ،الحديث: ۱۲۰، ج۱، ص۲۲۵) (موارد الظمآن، باب شکر المعروف، الحديث: ۲۰۷۴،ج۱، ص۵۰۶)