| ضیائے صدقات |
عام فہم زبان ميں اسے تحفہ سے تعبير کيا جاتا ہے اور اصطلاحِ شرع ميں اسے ہِبَہ کہا جاتا ہے، جس کے معنی بلا عوض کسی شخص کو اپنی کسی چيز کا مالک بنادينا ہے۔ اور تحفہ دينے کی حديث شريف ميں تعريف بھی بيان کی گئی اور اسے زيادتی محبت کا ذريعہ بھی فرماياگیاہے۔
چنانچہ حديث شريف ميں ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يعْطِينِيْ الْعَطَاءَ، فَأَقُوْلُ أَعْطِہِ مَنْ ھُوَ إِلَيہ أَفْقَرُ مِنِّيْ. قَالَ: فَقَالَ: ''خُذْہُ إِذَا جَائَکَ مِنْ ھٰذَا الْمَالِ شَيْئٌ، وَأَنْتَ غَير مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ، فَخُذْہُ فَتَمَوَّلْہُ، فَإِنْ شِئْتَ کُلْہُ، وَإِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْ بِہِ، وَمَا لَا فَلاَ تُتْبِعْہُ نَفْسَکَ''.
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہيں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے کوئی مال عطا فرماتے تو ميں عرض کرتا: آپ مجھ سے زيادہ ضرورت مند کو ديں، فرماتے ہيں: اس پرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے: جب یہ مال تمہارے پاس سوال اور لالچ نفس کے بغیر آئے تو اسے لے لو اوراپنا کرلو پھر اگر چاہو تو اسے اپنے صرف میں لاؤ اور اگرچاہوتو صدقہ کردو اورجومال اس طرح نہ آئے تو اس کے پیچھے اپنے نفس کو نہ ڈالو۔