Brailvi Books

ضیائے صدقات
393 - 408
     ''حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ذکر تو اپنا فرمايا مگر قانون کلی فرمايا کہ جو بھکاری بھی ضد يا اڑ سے بھيک وصول کرے، دينے والا دينا نہ چاہے، تو اس سے بھيک ميں سخت بے برکتی ہوگی، امام غِزالی فرماتے ہيں جو فقير يہ جانتے ہوئے بھيک لے کہ دينے والا شخص شرم و ندامت کی وجہ سے دے رہا ہے اس کا دل دينے کو نہ چاہتا تھا، تو يہ مال بھکاری کے لئے حرام ہے، خيال رہے کہ بھکاری کی ضد اور ہے چندہ کرنے والوں کا لحاظ کچھ اور، ضد حرام ہے لحاظ کا يہ حکم نہيں، آج مسجدوں مدرسوں کے چندوں ميں عموماً ديکھا گيا ہے کہ شہر کا بڑا معزز مالدار آدمی زيادہ وصول کرسکتا ہے، پھر اپنے لئے مانگنے اور دينی کاموں کے لئے چندہ کرنے کے احکام ميں فرق ہے''۔۱؎

    ايک دوسری حديث شريف:
عَنْ مُعَاوِيۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يقوْلُ: ''إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، فَمَنْ أَعْطَيتہُ عَنْ طِيب نَفْسٍ فَيبارَکُ لَہُ فِيہِ، وَمَنْ أَعْطَيتہُ عَنْ مَسْأَلَۃٍ، وَشَرَہٍ کَانَ کَالَّذِيْ ياکُلُ وَلَا يشْبَعُ''.۲؎
حضرت معاويہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، ميں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا، بے شک میں (اللہ عزوجل کے خزانوں کا)خازن ہوں تو جسے ميں خوشدلی سے کچھ دوں اس ميں لينے والے کے لئے برکت عطا فرمائی جاتی ہے اور جسے اس کے مانگنے پر اوراس کی حرص کی وجہ سے (نہ کہ اپنے دل کی خوشی سے) دوں تووہ اس کی مثل ہے جو کھاتا ہے اور سير نہیں ہوتا۔
مدینـــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجيح، ج۳، ص۵۶)

۲؎    (صحيح مسلم، کتابالزکاۃ، باب النھي عن المسألۃ، الحديث:۹۸۔(۱۰۳۷)،ص۳۷۱)
Flag Counter