| ضیائے صدقات |
مانگنے ميں اصرار کرنا بہت قبيح فعل ہے کہ نہ صرف مانگنے والے کی عزت کم ہوتی چلی جاتی ہے بلکہ يہ امر دينے سے انکار والے پر بھی گراں گزرتا ہے۔ مانگنے والے کو يہ يقين ہونا چاہے کہ رازق برحق اللہ تعالیٰ ہے دیگر اسباب تو اُسی کے پيدا کردہ ہيں، چنانچہ:
عَنْ مُعَاوِيۃَ بْنِ أَبِيْ سُفْيانَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''لَا تُلْحِفُوْا فِي الْمَسْأَلَۃِ، فَوَاللہِ لَا يسأَلُنِيْ أَحَدٌ مِّنْکُمْ شَيئًا فَتُخْرِجُ لَہُ مَسْأَلَتُہُ مِنِّيْ شَيئًا،وَأَنَا لَہُ کَارِہٌ، فَيبارَکُ لَہُ فِيما أَعْطَيتہُ''.۱؎
حضرت معاويہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، مانگنے ميں زاری (ضد) نہ کرو اللہ کی قسم ايسا نہيں ہوسکتا کہ میرے ناچاہتے ہوئے تم میں سے کوئی مجھ سے کچھ مانگ کر لے جائے اور پھر اس میں برکت دی جائے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں''يعنی سوال پر اڑ نہ جاؤ کہ سامنے والا دينا نہ چاہے اور تم بغير لئے ٹلنا نہ چاہو، مانگنا ايک عيب ہے اور اس پر اڑنا دس گنا عيب، رب تعالیٰ فرماتا ہے:(لَا يسئَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافاً)''۔
ترجمہ: لوگوں سے سوال نہيں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے (کنزالايمان[البقرۃ:۲/۲۷۳])۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (سنن الدارمي، کتاب الزکاۃ، باب التشديد علی...الخ،الحديث: ۱۶۴۴ ص۴۸۰) (صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب النھي عن المسألۃ، الحديث: ۹۹۔(۱۰۳۸)، ص۳۷۱) (سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب الإلحاف في المسألۃ، الحديث: ۲۵۹۲،ج۲، الجزء۵،ص۱۰۲) (مشکاۃ المصابيح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث: ۱۸۴۰، ج۱، ص۳۵۰ )