| ضیائے صدقات |
وَلَا لَحْمَ لَہُ يتقَعْقَعُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِاللہِ، شَقَّقْتُ عَلَيک يا نَبِيَّ اللہِ وَلَمْ أَعْلَمْ. قَالَ: لَا بَأْسَ أَحْسَنْتَ وَأَتْقَنْتَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّيْ يا نَبِيَّ اللہِ احْکُمْ فِيْ أَھْلِيْ بِمَا شِئْتَ، أَوِ اخْتُرْ فَأُخَلِّيَ سَبِيلَکَ. قَالَ: أَحِبُّ أَنْ تُخَلِّيَ سَبِيلِيْ فَأَعْبُدَ رَبِّيْ فَخَلّٰی سَبِيلَہُ، فَقَالَ الْخَضِرُ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَوْثَقَنِيْ فِي الْعُبُودِيۃِ، ثُمَّ نَجَّانِيْ مِنْھَا''.۱؎
پرگوشت نہ ہوگا صرف کھال ہوگی،تو اس شخص نے عرض کی ميں اللہ پر ايمان لايامیں نے لاعلمی میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو مشقت میں مبتلا کردیا،آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کوئی بات نہیں تم نے اچھا معاملہ کیا اور مجھ پر اعتماد کیاتو خريدار نے عرض کی، آپ پر ميرے ماں باپ قربان اے اللہ کے نبی!میرے اہل کے بارے میں جیسا آپ چاہیں حکم فرمائیں یاچاہیں تو آپ کو آزاد کردوں تو خضر عليہ السلام نے فرمايا، مجھے يہ زيادہ پسند ہے کہ آپ مجھے آزاد کرديں تاکہ ميں اپنے رب کی بندگی کرتا رہوں تو اُس شخص نے انہيں آزاد کرديا تو خضر عليہ السلام نے فرمايا: تمام خوبياں اللہ کے لئے جس نے مجھے اس غلامی ميں ثابت قدم رکھا پھر مجھے اس سے نجات عطا فرمائی۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (المعجم الکبير للطبراني،الحديث:۷۵۳۰،ج۸، ص۱۱۳)
(الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،ترہیب السائل أن یسأل...الخ،الحدیث۶،ج۱،ص۳۱۱)