Brailvi Books

ضیائے صدقات
390 - 408
لَيس يشُقُّ عَلَيَّ. قَالَ: فَاضْرِبْ مِنَ اللَّبِنِ لِبَيتيْ حَتّٰی أَقْدُمَ عَلَيک. قَالَ: فَمَرَّ الرَّجُلُ لِسَفَرِہِ قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ وَقَدْ شَيد بِنَائَہُ قَالَ: أَسْأَلُکَ بِوَجْہِ اللہِ مَا سَبَبُکَ وَمَا أَمْرُکَ؟ قَالَ: سَأَلْتَنِيْ بِوَجْہِ اللہِ وَوَجْہُ اللہِ أَوْقَعَنِيْ فِيْ ھٰذِہِ الْعُبُوْدِيۃِ، فَقَالَ الْخَضِرُ سَأُخْبِرُکَ مَنْ أَنَا أَنَا الْخَضِرُ الَّذِیْ سَمِعْتَ بِہِ سَأَلَنِیْ مِسْکِیْنٌ صَدَقَۃً فَلَمْ یَکُنْ عِنْدِیْ شَیْءٌ أُعْطِيہ فَسَأَلَنِيْ بِوَجْہِ اللہِ فَأَمْکَنْتُہُ مِنْ رَقَبَتِيْ فَبَاعَنِيْ وَأُخْبِرُکَ أَنَّہُ مَنْ سُئِلَ بِوَجْہِ اللہِ فَرَدَّ سَاءِلَہُ وَھُوَ يقدِرُ وَقَفَ يومَ الْقِيامَۃِ جِـلْدَۃً،
کے ليے اینٹیں بنا يئے، سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہيں، پھر وہ شخص سفر پر چلا گيا جب لوٹا تو آپ اس کے گھر کی تعمیر مکمل کر چکے تھے تو اس نے خضر عليہ السلام سے عرض کی، خدا کے ليے مجھے بتايئے کہ آپ کا کیا معاملہ ہے؟ تو آپ عليہ السلام نے فرمايا، آپ نے مجھ سے خدا کا واسطہ دے کر سُوال کيا ہے حالانکہ اسی واسطہ دینے نے مجھے اس غلامی ميں ڈالا،حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میں آپ کو بتا دیتاہوں کہ میں کون ہوں، میں ہی خضر ہوں کہ جس کے متعلق آپ نے سن رکھا ہے (ایک روز)مجھ سے ایک مسکین نے صدقہ مانگا اسے دینے کے ليے اُس وقت میرے پاس کوئی چیز نہ تھی،پھر اس نے مجھ سے اللہ کے نام پر مانگا تو ميں نے اُسے اپنی ذات پر اختیار دے دیا،تو اس نے مجھے بیچ  دیا اور میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ جس شخص سے اللہ کے نام کا سوال ہو اور وہ مانگنے والے کو تہی دست لوٹادے حالانکہ وہ دينے کی استطاعت بھی رکھتا ہو تو قيامت کے دن لرزتا ہوا یوں کھڑا ہو گا کہ اس کے بدن
Flag Counter