| ضیائے صدقات |
إِنَّمَا اشْتَرَيتنِي الْتِمَاسَ خَير عِنْدِيْ فَأَوْصِنِيْ بِعَمَلٍ. قَالَ: أَکْرَہُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيک إِنَّکَ شَيخ کَبِير ضَعِيف. قَالَ: لَيس يشُقُّ عَلَيَّ. قَالَ: قُمْ فَانْقُلْ ھٰذِہِ الْحِجَارَۃَ، وَکَانَ لَا ينقُلُھَا دُوْنَ سِتَّۃِ نَفَرٍ فِيْ يومٍ فَخَرَجَ الرَّجُلُ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ نَقَلَ الْحِجَارَۃَ فِيْ سَاعَۃٍ. قَالَ: أَحْسَنْتَ وَأَجْمَلْتَ وَأَطَقْتَ مَا لَمْ أَرَکَ تُطِيقہُ. قَالَ: ثُمَّ عَرَضَ لِلرَّجُلِ سَفَرٌ فَقَالَ: إِنِّيْ أَحْسِبُکَ أَمِيناً فَاخْلُفْنِيْ فِيْ أَھْلِيْ وَمَالِيْ خِلَافَۃً حَسَنَۃً. قَالَ: وَأَوْصِنِيْ بِعَمَلٍ. قَالَ: إِنِّيْ أَکْرَہُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيک قَالَ:
کسی کام کا تو کہو، اس نے عرض کی،مجھے یہ پسند نہیں کہ آپ کو مشقت میں ڈالوں کیونکہ آپ بوڑھے اور ضعيف ہيں،تو خضر عليہ السلام نے فرمايا، مجھ پر کچھ گراں نہيں تو اس نے عرض کی، اُٹھئے اور اس پتھر کو یہاں سے دوسری جگہ منتقل کرديں،حالانکہ چھ سے کم افراد دن بھر میں بھی اس پتھر کو دوسری جگہ منتقل نہیں کرسکتے تھے۔ پھر وہ شخص کسی کام سے گيا جب لوٹا تو آپ اس پتھر کو دوسری جگہ منتقل کر چکے تھے، کہنے لگا، بہت خوب آپ نے اس طاقت کا مظاہرہ کیا جس کا مجھے گمان بھی نہ تھا، سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، پھر اس شخص کو سفر پر جانا پڑگيا تو آپ عليہ السلام سے عرض کی، ميں آپ کو امانتدار سمجھتا ہوں آپ ميرے پیچھے ميرے گھر اور مال کے نگہبان رہيں تو آپ عليہ السلام نے فرمايا، آپ مجھے کوئی کام کہہ جائيے، تو اس نے عرض کی مجھے یہ پسند نہیں کہ آپ کو مشقت میں ڈالوں تو آپ عليہ السلام نے فرمايا، مجھ پر کوئی مشقّت نہ ہوگی آپ کہے، تو اس نے کہا ميرے آنے تک ميرے گھر