Brailvi Books

ضیائے صدقات
38 - 408
(۵)فقير کو بہ نيت زکوٰۃ مکان رہنے کو ديا، زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کہ مال کا کوئی حصہ اسے نہ ديا بلکہ منفعت کا مالک کيا۔۱؎

(۶)زکوٰۃ کی فرضيت کی شرائط ميں سے عاقل ہونا، بالغ ہونا، مسلمان ہونا، آزادہونا اور قرض اور حاجتِ اصليہ سے فارغ بقدر نصاب مال نامی(بڑھنے والا مال) جس پر سال گزر چکا ہو، کا مالک ہونا ہے۔ چنانچہ علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفی ۷۱۰ھ فرماتے ہيں:
 شرط وجوبھا العقل والبلوغ والإسلام والحريۃ وملک نصاب حولي فارغ عن الدين وحاجتہ الأصليۃ نام ولو تقديراً.۲؎
(۷)مال اگر ہلاک ہوگيا تو زکوٰۃ نہيں چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغينانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفی ۵۹۳ھ فرماتے ہيں،
 لا تضمن بھلاک النصاب بعد التفریط.۳؎
(۸)بچے اور مجنون کی ملکيت ميں چاہے جتنا بھی مال ہو اس پر زکوٰۃ فرض نہيں کيونکہ زکوٰۃ ايسی عبادت ہے جو اختياری طور پر ادا کی جاتی ہے جبکہ بچہ اور مجنون عدمِ عقل کی وجہ سے کوئی اختيار نہيں رکھتے۔ علامہ مرغينانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں،
 ولیس علی الصبي والمجنون زکاۃ (لِ)أنھا عبادۃ فلا تتأدی إلا بالاختيار تحقیقاً لمعنی الابتلاء ولا اختيار لھما لعدم العقل.۴؎
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (بہارِ شريعت بحوالہ در مختار، حصہ پنجم، ص۸)

۲؎    (کنز الدقائق مع البحر الرائق،کتاب الزکاۃ،ج۲، ص۳۵۳۔۳۵۵) 

۳؎    (الھدايۃ،کتاب الزکاۃ،الجزء۱،ج۱، ص۱۰۳)

۴؎    (الھدايۃ،کتاب الزکاۃ،الجزء۱،ج۱، ص۱۰۳)
Flag Counter