Brailvi Books

ضیائے صدقات
388 - 408
مَا شَاءَ اللہُ مِنْ أَمْرٍ يکوْنُ مَا عِنْدِيْ شَيْئٌأُعْطِيکہُ، فَقَالَ الْمِسْکِين: أَسْأَلُکَ بِوَجْہِ اللہِ لَمَا تَصَدَّقْتَ عَلَيَّ، فَإِنِّيْ نَظَرْتُ السَّمَاحَۃَ فِيْ وَجْھِکَ وَرَجَوْتُ الْبَرَکَۃَ عِنْدَکَ، فَقَالَ الْخَضِرُـ آمَنْتُ بِاللہِ مَا عِنْدِيْ شَيْءٌ أُعْطِيکہُ إِلَّا أَنْ تَأْخُذَنِيْ فَتَبِيعَنِيْ، فَقَالَ الْمِسْکِين: وَھَلْ يستَقِيم ھٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقُوْلُ لَقَدْ سَأَلْتَنِيْ بِأَمْرٍ عَظِيم أَمَا إِنِّيْ لَا أُخَيبکَ بِوَجْہِ رَبِّيْ بِعْنِيْ. قَالَ: فَقَدَّمَہُ إِلَی السُّوْقِ فَبَاعَہُ بِأَرْبَعَ مِائَۃِ دِرْھَمٍ فَمَکَثَ عِنْدَ الْمُشْتَرِيْ زَمَاناً لَا يستَعْمِلُہُ فِيْ شَيْئٍ، فَقَالَ:
ہر کام ميں اللہ کی مشيت ہے تمہیں دينے کے ليے اس وقت میرے پاس کچھ نہیں، تو اُس مسکين نے کہا ميں آپ سے اللہ کے نام کا سُوال کرتا ہوں آپ ضرور مجھے صدقہ ديں ميں آپ کے چہرے پر سخاوت وفیاضی کے آثار دیکھتا ہوں اور آپ سے برکت کی امید رکھتا ہوں تو خضر عليہ السلام نے فرمايا، ميں اللہ پر ايمان لايا ميرے پاس تمہیں دینے کے ليے کچھ نہیں مگر يہ کہ تم مجھے ہی لے لو اور مجھے بیچ  ڈالو! تو اُس مسکين نے کہا، کيا يہ درست رہے گا؟ فرمايا، ہاں تم نے مجھ سے امر عظیم کے ساتھ سوال کیا ہے بے شک ميں تمہيں اپنے رب کے نام پر مانگنے پر مايوس نہيں کروں گا مجھے بيچ دو! ۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، تو وہ مکاتب خضر عليہ السلام کو لئے بنی اسرائیل کے بازار ميں گيا اور آپ کو چار سو درہم ميں بیچ  ديا پھر آپ عليہ السلام خريدار کے ہاں طويل مدّت يوں رہے کہ اُس نے آپ سے کوئی کام نہ ليا، تو ايک روز آپ نے فرمايا، تم نے مجھے بھلائی کی غرض سے خريدا ہے تو مجھے
Flag Counter