| ضیائے صدقات |
عَنِ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ الْبَرِيۃِ''؟ قَالُوْا: بَلٰی يا رَسُوْلَ اللہِ: قَالَ: ''الَّذِيْ يسأَلُ بِاللہِ وَلَا يعْطِيْ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، کيا ميں تمہيں لوگوں میں سے بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کی، ضرور يا رسول اللہ، فرمايا وہ جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور نہ دے۔
اللہ عزوجل کے نام پر سوال کرنے کے بارے میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت خضر عليہ السلام کا واقعہ بيان فرمايا، چنانچہ:عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''أَلَا أُحَدِّثُکُمْ عَنِ الْخَضِرِ''؟ قَالُوْا: بَلٰی يا رَسُوْلَ اللہِ. قَالَ: ''بَينمَا ھُوَ ذَاتَ يومٍ يمشِيْ فِيْ سُوْقِ بَنِيْ إِسْرَاءِيلَ أَبْصَرَہُ رَجُلٌ مُکَاتَبٌ، فَقَالَ: تَصَدَّقْ عَلَيَّ، بَارَکَ اللہُ فِيک فَقَالَ الْخَضِرُ: آمَنْتُ بِاللہِ
حضرت ابو اُمامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، کيا ميں تمہيں خضر عليہ السلام کے بارے ميں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کی، ضرور يا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم، فرمايا ايک روز وہ بنی اسرائيل کے بازار سے گزر رہے تھے کہ ايک مکاتب شخص نے آپ کو ديکھا (مکاتب اس غلام کوکہتے ہیں جس نے اپنے آقاسے مال کی ادائیگی کے بدلے آزادی کامعاہدہ کیا ہوا ہو۔ مختصر القدوری، کتاب المکاتب، ص۳۷۶) اور عرض کیا کہ مجھے کچھ صدقہ ديجئے اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے، تو حضرت خضر عليہ السلام نے فرمايا، ميں اللہ پر ايمان لايا،
مدینـــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المسند للإمام أحمد،مسند أبي ہريرۃ،الحديث: ۹۱۳۱،ج۳، ص۴۴۱)