ترجمہ: اور احسان کر جيسا اللہ نے تجھ پر احسان کيا (کنزالايمان[القصص:۲۸/۷۷]) يہ حکم ہم جيسے کم ہمت لوگوں کے لئے ہے ہمت والے تو اپنے دشمنوں کی برائی کا بدلہ معافی اور بھلائی سے کرتے ہيں، شعر
ليا ظلم کا عفو سے انتقام عليہ الصلوٰۃ والسلام
اور ''دعائيں دو'' کے تحت لکھتے ہیں:''اس طرح کہو جَزَاکَ اللہُ يا اس کاکھانا کھا کر کہو
اللّٰھُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنَا وَاسْقِ مَنْ سَقَانَا
وغيرہ حضرت عائشہ صديقہ کو جب کوئی سائل دعائيں ديتا، تو آپ پہلے اُسے دعائيں ديتيں، پھر بھيک عطا فرماتيں کسی نے پوچھا کہ آپ عطا سے پہلے دعا کيوں ديتی ہيں فرمايا تاکہ يہ ميرا صدقہ عوض سے بچا رہے رضی اللہ تعالیٰ عنہا''۔۱؎
ايک اور حديث شريف:
عَنْ رَافِعٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَلْعُوْنٌ مَنْ سَأَلَ بِوَجْہِ اللہِ، وَمَلْعُوْنٌ مَنْ سُئِلَ بِوَجْہِ اللہِ فَمَنَعَ سَاءِلَہُ''.۲؎
حضرت رافعرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، ملعون ہے وہ جو اللہ کے نام پر مانگے اور ملعون ہے وہ جس سے اللہ کے نام پر مانگا گيا اور منگتے کو منع کردے۔
مدینــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (مرآۃ المناجيح، ج۳، ص۱۲۴)
۲؎ (المعجم الکبير للطبراني، الحديث: ۹۴۳،ج۲۲، ص۳۷۷)