دعوت قبول کرو اور جوکوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے اُس کا بدلہ کرو اگر بدلہ کی چیز نہ پاؤ تو اُس کو دعائيں دو یہاں تک کہ يقين ہوجائے کہ تم نے اُسکا بدلہ کرديا۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ''اسے پناہ دو'' کے تحت فرماتے ہیں:''يعنی جو تمہاری سختی يا غير کی سختی سے تمہارے پاس اللہ کی پناہ مانگے تو اُسے ديدو، کہ اگر تم کسی کو مارنا چاہتے ہو تو معافی دے دو يا کوئی دوسرا اُس پر سختی کرنا چاہتا ہے اور تم دفع کرسکتے ہو تو کردو، يہ حکم اپنے ذاتی معاملات ميں ہے، قوم يا دين کے مجرم کو ہرگز معاف نہيں کرسکتے، اگرچہ وہ کيسی ہی پناہ لے تاکہ امن و دين ميں خلل نہ پڑے، لہٰذا يہ حديث اُسکے خلاف نہيں، کہ آپ نے فاطمہ فخروميہ کو جس نے چوری کرلی تھی معافی نہ دی''۔
اور''دعوت قبول کرو'' کے تحت فرماتے ہیں: ''بشرطيکہ وہ دعوت ممنوعات شرعيہ سے خالی ہو لہٰذا جس وليمہ ميں ناچ گانا خاص کھانے کی جگہ ہو وہاں نہ جائے، ايسے ہی ميت کے کھانے پر رسمی دعوت قبول نہ کرے، لہٰذا يہ فرمان فتویٰ فقہاء کے خلاف نہيں''۔اور''بھلائی کا بدلہ کرو''اسطرح کہ وہ جس قسم کا سلوک تم سے