Brailvi Books

ضیائے صدقات
381 - 408
سائل سے حيا کرتے ہوئے يا رياکاری کے طور پر خرچ کرے تو يہ لينے والے پر حرام ہے اور اگر وہ منع کرے تو بعض اوقات وہ حيا کرتے ہوئے منع کرتے وقت اپنے نفس ميں اذيت محسوس کرتا ہے کيوں کہ اپنے آپ کو بخيل کی شکل ميں ديکھتا ہے کہ خرچ کرنے ميں مال کا نقصان ہے اور منع کرنے ميں عزت کا نقصان ہے اور يہ دونوں کام اذيت ناک ہيں اور سائل ہی ايذا کاسبب بنااور ايذا رسانی ضرورت کے بغير حرام ہے۔

    اب جب تم ان تينوں باتوں کو سمجھ گئے تو تمہيں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی سمجھ بھی آگئی ہوگی کہ آپ نے فرمايا:
مَسْئَلَۃُ النَّاسِ مِنَ الْفَوَاحِشِ مَا أُحِلَّ مِنَ الْفَوَاحِشِ غَيرھَا.
لوگوں سے مانگنا فاحش کاموں سے ہے اور فواحش ميں سے اس کے سوا کچھ مباح نہیں کیا گیا۔

    تو ديکھئے نبی کريمصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مانگنے کو فاحش (گناہ کبیرہ) قرار ديا ہے اور يہ بات مخفی نہيں ہے کہ فاحش کام ضرورت کے وقت ہی جائز ہوتا ہے جيسے کہ آدمی کا لقمہ پھنس جائے اور اس کے پاس شراب کے سوا کچھ نہ ہو (تو بَدِل نخواستہ) اسے استعمال کرسکتا ہے۔

    اور نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:
مَنْ سَأَلَ عَنْ غِنًی فَإِنَّمَا يستَکْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَھَنَّمَ.(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ)
جو شخص مالدار ہونے کے باوجود مانگتا ہے وہ جہنم کے انگارے زيادہ کرتا ہے۔
Flag Counter