| ضیائے صدقات |
سائل سے حيا کرتے ہوئے يا رياکاری کے طور پر خرچ کرے تو يہ لينے والے پر حرام ہے اور اگر وہ منع کرے تو بعض اوقات وہ حيا کرتے ہوئے منع کرتے وقت اپنے نفس ميں اذيت محسوس کرتا ہے کيوں کہ اپنے آپ کو بخيل کی شکل ميں ديکھتا ہے کہ خرچ کرنے ميں مال کا نقصان ہے اور منع کرنے ميں عزت کا نقصان ہے اور يہ دونوں کام اذيت ناک ہيں اور سائل ہی ايذا کاسبب بنااور ايذا رسانی ضرورت کے بغير حرام ہے۔
اب جب تم ان تينوں باتوں کو سمجھ گئے تو تمہيں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی سمجھ بھی آگئی ہوگی کہ آپ نے فرمايا:مَسْئَلَۃُ النَّاسِ مِنَ الْفَوَاحِشِ مَا أُحِلَّ مِنَ الْفَوَاحِشِ غَيرھَا.
لوگوں سے مانگنا فاحش کاموں سے ہے اور فواحش ميں سے اس کے سوا کچھ مباح نہیں کیا گیا۔
تو ديکھئے نبی کريمصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مانگنے کو فاحش (گناہ کبیرہ) قرار ديا ہے اور يہ بات مخفی نہيں ہے کہ فاحش کام ضرورت کے وقت ہی جائز ہوتا ہے جيسے کہ آدمی کا لقمہ پھنس جائے اور اس کے پاس شراب کے سوا کچھ نہ ہو (تو بَدِل نخواستہ) اسے استعمال کرسکتا ہے۔
اور نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:مَنْ سَأَلَ عَنْ غِنًی فَإِنَّمَا يستَکْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَھَنَّمَ.(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ)
جو شخص مالدار ہونے کے باوجود مانگتا ہے وہ جہنم کے انگارے زيادہ کرتا ہے۔