اس کا سوال اس کے چہرے پر خراشيں ہو گا۔
تو يہ الفاظ مانگنے کی حُرمت اور سختی ميں واضح ہيں۔
نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ايک جماعت کو اسلام پر بيعت فرمايا تو ان پر سننے اور ماننے کی شرط رکھی پھر ایک بات آہستہ سے فرمائی کہ
وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيا.
(المسند للإمام أحمد، مرويات عوف بن مالک)
لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروگے۔
نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عام طور پر سوال سے بچنے کا حکم ديتے اور فرماتے:
مَنْ سَأَلْنَا أَعْطَيناہُ وَمَنِ اسْتَغْنٰی أَغْنَاہُ اللہُ وَمَنْ لَّمْ يسأَلْنَا فَھُوَ أَحَبُّ إِلَينا.
(المسند، مرويات أبي سعيد الخدري)
جو شخص ہم سے مانگے ہم اسے ديں گے اور جوغنی بننا چاہے اللہ تعالیٰ اسے غنی کردے گا اور جو ہم سے سوال نہ کرے وہ ہی ہميں زیادہ محبوب ہے۔
اور آپ نے ارشاد فرمايا: