سائل کا سوال پورا کرو اگرچہ جلا ہوا کھُر دے کر۔
اصل کے اعتبار سے سوال حرام ہے اور ضرورت کے تحت يا کسی اہم حاجت کی صورت ميں جو ضرورت کے قريب ہو، مانگنا جائز ہے اگر اس سے بچ سکتا ہو تو سوال حرام ہوگا ہم نے يہ کہا کہ اصل ميں سوال حرام ہے کيونکہ مانگنے کی صورت ميں تين حرام کام کرنا پڑتے ہيں:
پہلا کام: اللہ تعالیٰ پر شکوہ کا اظہار، کيوں کہ سوال فقر کا اظہار ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت
کی کمی کا ذکر عين شکوہ ہے اور جس طرح کسی مملوک غلام کا مانگنا اپنے مالک پر طعن و تشنيع ہے اسی طرح بندوں کا سوال کرنا اللہ تعالیٰ کی ذات پر طعن ہے اور يہ کام حرام ہے اور ضرورت کے بغير ايسا کرنا جائز نہيں جيسا کہ مردار ضرورت کے وقت ہی حلال ہوتا ہے۔
دوسرا کام: مانگنے ميں غير خدا کے سامنے ذلت اختيار کرنا ہے اور مومن کے لئے جائز
نہيں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے ذليل و رسوا ہوتا پھرے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے آقا کے سامنے ہی عاجزی اختيار کرے کيوں کہ اس ميں اس کی عزت ہے باقی تمام لوگ اس کی طرح بندے ہيں لہٰذا ضرورت کے بغير ان کے سامنے ذلت و رسوائی اختيار نہ کرے۔ اور سوال کرنے ميں مسؤل عنہ (جس سے سوال کيا گيا) کے مقابل سائل کی ذلت ہے۔
تيسرا کام: عام طور پر مانگنے والے کو مسؤل عنہ کی طرف سے اذيت پہنچتی ہے
کیوں کہ بعض اوقات وہ دل کی خوشی سے خرچ کرنا نہيں چاہتا پس اگر وہ