Brailvi Books

ضیائے صدقات
379 - 408
إِذَا نَظَرَ أَحَدُکُمْ إِلٰی مَنْ فَضَّلَہُ اللہُ عَلَيہ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْينظُرْ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَسْفَلَ مِنْہُ مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَيہ.

(صحيح البخاري، کتاب الرقاق)
جب تم ميں سے کوئی شخص اس آدمی کو ديکھے جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور خلقت میں اس پر فضيلت دی ہے تو اسے چاہے کہ اس کی طرف دیکھے جواس سے کمتر ہے اور اسے اس پر فضيلت دی گئی ہے۔

    ان امور کے ساتھ قناعت کی صفت حاصل کرنے پر قادر ہوجائے گا تو اصل بات يہ ہے کہ صبر کرے اور اميد کم رکھے اور يہ بات جان لے کہ دنيا ميں اس کے صبر کی انتہا چند روزہ ہے ليکن اس کا نفع ايک طويل زمانے تک ہوگا پس وہ اس مریض کی طرح ہے جو دوائی کی کڑواہٹ پر صبر کرتا ہے کيوں کہ اسے شفاء کے انتظار کی شديد لالچ ہوتی ہے۔۱؎
سوال کرنا کيسا ہے؟
    سوال کرنے کے بارے ميں بہت زيادہ ممانعت آئی ہے اور اس سلسلے ميں اجازت بھی دی گئی ہے۔ شہنشاہ مدینہ،قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:
لِلسَّاءِلِ حَقٌّ وَلَوْ جَاءَ عَلٰی فَرَسٍ
مانگنے والے کا حق ہے اگرچہ گھوڑے پر آئے۔(سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ)

    ايک دوسری حديث ميں ہے:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان علاج الحرص والطمع والدواء الذي يکتسب بہ صفۃ القناعۃ،ج۳،ص۳۲۲۔۳۲۵)
Flag Counter