(۳)ادائیگی زکوٰۃ کے لئے ضروری ہے کہ بوقتِ ادائیگی زکوٰۃ کی نيت بھی ہو اور اگر ديتے وقت نيت نہ کی مگر دين ے کے بعد نيت کی جبکہ مال فقير کے ہاتھ ميں موجود ہو يا وکيل (برائے ادائیگی زکوٰۃ) کو مال ديتے وقت زکوٰۃ کی نيت کرلے پھر وکيل فقير کو بلا نيت ہی مال ديدے تو دونوں صورتوں ميں زکوٰۃ کی ادائیگی درست ہوگی۔
چنانچہ علامہ علاؤ الدين حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:
لو دفع بلا نيۃ ثمّ نوی والمال قائم في يد الفقير، أو نوی عند الدفع للوکيل ثم دفع الوکيل بلا نيۃ، جاز نيۃ الآمر.۳؎ (ملخصاً)
(۴)مباح کردينے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی مثلاً فقير کو بہ نيت زکوٰۃ کھانا کھلاديا زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کردينا نہيں پايا گيا ہاں اگر کھانا ديديا کہ چاہے کھائے يا لے جائے تو ادا ہوگئی۔ يونہی بہ نيت زکوٰۃ فقير کو کپڑا دے ديا يا پہناديا ادا ہوگئی۔۴؎
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (الدر المختارمع رد المحتار، کتاب الزکاۃ،ج۳،ص۱۲۶)
۲؎ (کنز الدقائق مع البحر الرائق،کتاب الزکاۃ،ج۲،ص۳۵۲)
۳؎ (الدر المختارمع ردالمحتار، کتاب الزکاۃ،ج۳، ص۱۲۷)
۴؎ (بہارِ شريعت بحوالہ درِ مختار، حصہ پنجم، ص۸)