Brailvi Books

ضیائے صدقات
378 - 408
رہتا ہے اور جب ہاتھ خالی ہوتا ہے تو امن اور فراغت ہوتی ہے ہم نے مال کی آفات کے سلسلے ميں جو کچھ ذکر کيا ہے ان سب پر غور کرنا چاہے اس کے علاوہ پانچ سو سال تک جنت سے دُور رہے گا اور جب وہ بقدرِ کفايت پر قناعت نہيں کرتا تو اغنياء کے گروہ ميں شامل ہوتا ہے اور فقراء کی فہرست سے نکل جاتا ہے اور يہ غور و فکر اس طرح پوری ہوگی کہ دنيا کے معاملے ميں ہميشہ اپنے سے نیچے کے لوگوں کی طرف ديکھے اوپر والوں کی طرف نہ ديکھے کيوں کہ شيطان ہميشہ اس کی نظر کو اوپر والوں کی طرف پھيرتا ہے اور کہتا ہے کہ طلبِ مال ميں کوتاہی کيوں کرتے ہو حالانکہ مال دار لوگوں کو اچھے اچھے کھانے اور عمدہ لباس حاصل ہيں اور دين کے معاملے ميں شيطان اس کی نگاہ کو اپنے سے نیچے والوں کی طرف پھيرتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے نفس کو کيوں مشقت اور تنگی ميں ڈالتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہو حالانکہ فلاں شخص تجھ سے زيادہ علم رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے نہيں ڈرتا تمام لوگ عيش و عشرت ميں مشغول ہيں تم ان سے کہاں ممتاز ہونا چاہتے ہو۔

    حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: مجھے ميرے خليل (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) نے وصيت فرمائی ہے کہ ميں (دنيا کے معاملے ميں) اپنے سے نیچے درجے والے کو ديکھوں اوپر والے کو نہيں۔ (مجمع الزوائد، کتاب الوصايا)

    حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: