رہتا ہے اور جب ہاتھ خالی ہوتا ہے تو امن اور فراغت ہوتی ہے ہم نے مال کی آفات کے سلسلے ميں جو کچھ ذکر کيا ہے ان سب پر غور کرنا چاہے اس کے علاوہ پانچ سو سال تک جنت سے دُور رہے گا اور جب وہ بقدرِ کفايت پر قناعت نہيں کرتا تو اغنياء کے گروہ ميں شامل ہوتا ہے اور فقراء کی فہرست سے نکل جاتا ہے اور يہ غور و فکر اس طرح پوری ہوگی کہ دنيا کے معاملے ميں ہميشہ اپنے سے نیچے کے لوگوں کی طرف ديکھے اوپر والوں کی طرف نہ ديکھے کيوں کہ شيطان ہميشہ اس کی نظر کو اوپر والوں کی طرف پھيرتا ہے اور کہتا ہے کہ طلبِ مال ميں کوتاہی کيوں کرتے ہو حالانکہ مال دار لوگوں کو اچھے اچھے کھانے اور عمدہ لباس حاصل ہيں اور دين کے معاملے ميں شيطان اس کی نگاہ کو اپنے سے نیچے والوں کی طرف پھيرتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے نفس کو کيوں مشقت اور تنگی ميں ڈالتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہو حالانکہ فلاں شخص تجھ سے زيادہ علم رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے نہيں ڈرتا تمام لوگ عيش و عشرت ميں مشغول ہيں تم ان سے کہاں ممتاز ہونا چاہتے ہو۔
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: مجھے ميرے خليل (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) نے وصيت فرمائی ہے کہ ميں (دنيا کے معاملے ميں) اپنے سے نیچے درجے والے کو ديکھوں اوپر والے کو نہيں۔ (مجمع الزوائد، کتاب الوصايا)
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: