Brailvi Books

ضیائے صدقات
377 - 408
    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:
عِزُّ الْمُؤْمِنِ اسْتِغْنَاؤُہٗ عَنِ النَّاسِ.
مومن کی عزت لوگوں سے بے نياز رہنا ہے۔

    قناعت ميں آزادی بھی ہے اور عزت بھی، اسی لئے کہا گيا ہے جس سے کچھ لينا چاہتا ہے اس سے بے نياز رہ اس کی مثل ہوجائے گا جس سے کوئی حاجت طلب کریگا اس کا اسير ہوجائے گا اور جس پر چاہے احسان کر اس کا امير ہوجائے گا۔

(۴)يہود و نصاریٰ کی عيش پرستی، ذليل ورسوا قسم کے لوگوں بيوقوف کُردوں (کُرد

ايک قبيلہ ہے) اُجڈ ديہاتیوں اور ايسے لوگوں کی حالت کو ديکھ جن کا نہ کوئی دين ہے اور نہ عقل، پھر انبياء کرام اور اولياء کرام کے احوال ملاحظہ کر خلفاء راشدين اور باقی صحابہ کرام کے حالات زندگی ديکھ تابعين کو ديکھ اور پھر ان کی باتيں غور سے سن کر ان کے حالات کا مطالعہ کر اور اس کے بعد اپنی عقل کو اختيار دے کہ وہ ذليل و رسوا قسم کے لوگوں کی پيروی کو پسند کرتی ہے يا ان لوگوں کی اقتدا چاہتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ميں سب سے زيادہ معزز ہيں تاکہ معيشت کی تنگی اور تھوڑے رزق پر قناعت آسان ہوجائے اگر پيٹ کو ہی زيادہ بھرنا ہے تو گدھا زيادہ کھاتا ہے اگر جماع کی فروانی چاہتا ہے تو اس سے خنزير کا رتبہ زيادہ ہوگا اگر لباس اور سواريوں کی زينت مطلوب ہے تو کئی يہوديوں کو زيادہ زينت حاصل ہے اور اگر تھوڑے پر قناعت اور راضی رہے تو اس صورت ميں صرف انبياء کرام اور اولياء کرام کے ساتھ شريک ہوگا۔

(۵)مال جمع کرنے کا جو خطرہ ہے اسے سمجھنا چاہے جيسا کہ ہم نے اس کی آفات کے ذکر ميں بيان کيا ہے۔ اس ميں چوری لُوٹ کھسوٹ اور ضائع ہونے کا خطرہ
Flag Counter