دوسری چيز وہ ہے جو ميرے غير کے لئے ہے وہ مجھے پہلے بھی نہيں ملی اور آئندہ بھی نہيں ملے گی دوسروں کی چيز کو مجھ سے اسی ذات نے روکا ہے جس نے ميری چيز کو ان سے روکا ہے تو ميں ان دو باتوں ميں اپنی زندگی کيوں تباہ کروں۔
تو معرفت کی جہت سے حرص اور لالچ کا علاج يہی ہے اور اسے حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ شيطان کا ڈرانا اور محتاجی کا خوف دلانا ختم ہوجائے۔
(۳)اس بات کی پہچان حاصل ہونی چاہے کہ قناعت ميں دوسروں سے بے نيازی کی عزت حاصل ہوتی ہے اور لالچ اور حرص کی صورت ميں ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب آدمی کے دل ميں يہ بات بيٹھ جائے تو وہ قناعت کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس کا جذبہ پيدا ہوتا ہے کيونکہ حرص کی صورت ميں مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے اور لالچ، ذلت سے خالی نہيں ہوتی جب کہ قناعت ميں خواہش اور زوائد سے صبر کی تکليف برداشت کرنا ہوتی ہے اوریہ وہ تکليف ہے جس پر صرف اللہ تعالیٰ ہی مطلع ہوتا ہے اور اس ميں آخرت کا ثواب بھی ہے۔ جب کہ لالچ اور حرص ایسی چیزیں ہیں کہ جن کی طرف لوگوں کی نظریں مائل ہوتی ہیں یعنی حریص اور لالچی شخص کی حرص و طمع لوگوں سے پوشیدہ نہیں رہتی اور اس کا وبال اور گناہ الگ ہے۔ عزت نفس چلی جاتی ہے اور حق کی اتباع کی طاقت بھی نہيں رہتی کيونکہ جو شخص زيادہ حرص اور لالچ کرتا ہے وہ لوگوں کا زيادہ محتاج ہوتا ہے لہٰذا وہ لوگوں کو حق کی طرف بلا نہيں سکتا اور وہ منافقت سے کام ليتا ہے ايسے آدمی کا دين ہلاک ہوجاتا ہے اور جو آدمی اپنے نفس کی عزت کو پيٹ کی خواہش پر ترجيح نہيں ديتا اس کی عقل بہت کمزور ہے اور ايمان ناقص ہے۔