| ضیائے صدقات |
لَا تَياسَا مِنَ الرِّزْقِ مَا تَھَزْھَزَتْ رُؤُوْسُکُمَا فَإِنَّ الإْنْسَانَ تَلِدُہٗ أُمُّہٗ أَحْمَرَ لَيس عَلَيہ قِشْرٌ ثُمَّ يرزُقُہُ اللہُ تَعَالٰی.
جب تک تمہارے سروں ميں حرکت ہے تم رزق سے مايوس نہ ہو انسان کو اس کی ماں جنتی ہے تو وہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے اس پر چمڑا بھی نہيں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ ہی اسے رزق ديتا ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزر فرمايا جبکہ وہ غمگين تھے تو آپ نے فرمايا:لَا تُکْثِرْ ھَمَّکَ مَا قُدِّرَ يکنْ وَمَا تُرْزَقُ تَأْتِکَ. (الترغيب والترھيب)
زيادہ غمگين نہ ہو جو مقدر ميں ہے وہ ہوگا اور جو رزق لکھا گيا ہے وہ آئے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:أَلَا أَيھَا النَّاسُ أَجْمَلُوْا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّہٗ لَيس لِعَبْدٍ إِلَّا مَا کُتِبَ لَہٗ وَلَنْ يذْھَبَ عَبْدٌ مِنَ الدُّنْيا حَتّٰی ياتِيہٗ مَا کُتِبَ لَہٗ مِنَ الدُّنْيا وَھِيَ رَاغِمَۃٌ.
اے لوگو! سنو! اچھی طلب کيا کرو کيوں کہ بندے کے لئے جو کچھ لکھا گيا ہے وہی اسے ملے گا اور کوئی شخص دنيا سے نہيں جاتا جب تک اس کے لئے مقدرکی گئی دنيا اس کے پاس ذليل ہوکر نہ آجائے۔
بندہ حرص سے اس وقت تک بَری نہيں ہوسکتا جب تک وہ بندوں کے رزق سے متعلق اللہ تعالیٰ کی تدبير پر اچھااعتقاد نہ رکھے اور يہ عقيدہ ہونا چاہے کہ اچھی طلب ہو تو ضرور ملے گا۔ بلکہ اسے اس بات کا یقين ہونا چاہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندے کو جو زيادہ رزق ملتا ہے وہ ان مقامات سے آتا ہے جن کے بارے ميں اس کا گمان بھی نہيں ہوتا۔