Brailvi Books

ضیائے صدقات
373 - 408
تعالیٰ کے وعدے پر پختہ یقين ہونا چاہے کيوں کہ ارشادِ خداوندی ہے:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا۔
ترجمہ کنزالایمان: اور زمين پر چلنے والا کوئی ايسا نہيں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو .(ھود:۱۱/۶)

    مزيد يہ کہ شيطان اسے محتاجی سے ڈراتا بھی ہے اور بے حيائی کا حکم ديتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تم مال جمع کرنے اور اسے ذخيرہ بنانے کی حرص نہيں کروگے تو کبھی ايسا ہوگا کہ بيمار پڑجاؤ گے اور کبھی عاجز ہوجاؤ گے اور مانگ کر ذليل ہونا پڑے گا، تو وہ زندگی بھر طلبِ مال ميں اسے تھکاتا رہتا ہے کيونکہ اسے فقر کا ڈر ہوتا ہے، اور شيطان اس پر ہنستا ہے کہ وہ تکليف برداشت کررہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالیٰ سے غافل بھی ہے جس کی وجہ صرف يہ ہے کہ وہ دوسرے موقعہ کی مشقت اور تکليف کا وہم رکھتا ہے حالانکہ ہوسکتا ہے اسے مستقبل ميں يہ پريشانی اٹھانا نہ پڑے اسی قسم کے معاملے ميں کہا گيا ہے:
وَمَنْ ينفِقُ السَّاعَاتِ فِيْ جَمْعِ مَالِہٖ 

مَخَافَۃَ فَقْرٍ فَالَّذِيْ فَعَلَ الْفَقْرَ
جو شخص فقر کے خوف سے اپنے اوقات مال جمع کرنے ميں صرف کرتا ہے تو وہ خود ہی فقر کا سبب ہے۔

    حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو صاحبزادے، آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوئے تو آپ نے ان دونوں سے فرمايا:
Flag Counter