Brailvi Books

ضیائے صدقات
372 - 408
اَلتَّدْبِير نِصْفُ الْمَعِيشۃِ.
تدبير سے کام لينا نصف معيشت ہے۔ (مسند الفردوس)

    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:
مَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاہُ اللہُ، وَمَنْ بَذَّرَ أَفْقَرَہُ اللہُ، وَمَنْ ذَکَرَ اللہَ عزوجل أَحَبَّہُ اللہُ. (مجمع الزوائد، کتاب الزھد)
جو شخص (اخراجات ميں) اعتدال قائم رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے مالدار بنائے گا، اور جو آدمی ضرورت سے زائد خرچ

کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے فقير کرديتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے۔

    اور فرمايا:
إِذَا أَرَدْتَّ أَمْراً فَعَلَيک بِالتُّؤَدَۃِ حَتّٰی يجعَلَ اللہُ لَکَ فَرْجاً وَّمَخْرَجاً.

(البر والصلۃ لابن المبارک)
جب تم کسی کام کا ارادہ کرو(اور وہ تم پرشاق ہو)تو تم پر تاخير لازم ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کشادگی کرے اور راستہ کھول دے۔

    خرچ کرنے ميں تاخير کرنا (يعنی جلد بازی ميں سب کچھ خرچ نہ کرنا) نہايت اہم بات ہے۔

(۲)جب فی الحال مال کافی ہو تو مستقبل کے لئے زيادہ پريشانی کی ضرورت نہيں ہے

اور اس بات پر اميد کم رکھنا تمہارے لئے معاون ثابت ہوگا حقیقت يہ ہے کہ جس قدر رزق تمہارے لئے مقدر (لکھ ديا گيا) ہے وہ تمہارے پاس ضرور آئے گا اگرچہ شديد حرص نہ کرو کيونکہ زيادہ حرص رزق کے پہنچنے کا سبب نہيں ہے بلکہ اللہ
Flag Counter