ثَلَاثٌ مُنْجِياتٌ: خَشْيۃ اللہِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيۃ وَالْقَصَدُ فِي الْغِنٰی وَالْفَقْرِ وَالْعَدْلُ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ.
تين باتيں نجات دينے والی ہيں پوشيدہ اور ظاہری حالت ميں اللہ تعالیٰ کا خوف، مالداری اور فقر ميں اعتدال اور حالتِ رضا اور غضب ميں انصاف سے کام لينا۔
ايک اور روايت ميں ہے کہ ايک شخص نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ديکھا کہ آپ زمين سے ايک دانا چُن رہے تھے اور فرمارہے تھے کہ زندگی سہولت کے ساتھ گزارنا سمجھداری کی دليل ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہيں: سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:الْاِقْتِصَادُ حُسْنُ السَّمْتِ وَالْھَدْيُ الصَّالِحُ جُزْءٌ مِّنْ بِضْعٍ وَّعِشْرِين جُزْئً مِنَ النُّبُوَّۃِ. (سنن أبي داود)
ميانہ روی اچھا طریقہ اور اچھی سيرت نبوت کا چوبيسواں حصہ ہے۔
(مطلب يہ ہے کہ يہ خصائل انبيائے کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کے خصائل ہيں اور ان کو اپنانا ان کی اقتدا کرنا ہے ورنہ نبوت کے اجزاء نہيں ہوتے۔ (مصباح السالکين))
ايک اور حديث شريف ميں ہے: