امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ حرص اور لالچ کا علاج بيان فرماتے ہيں کہ يہ دوا تين چيزوں کا مرکب ہے، صبر، علم اور عمل اور پانچ باتوں ميں يہ تينوں چيزيں آتی ہيں۔
(۱)پہلی بات عمل ہے يعنی گزر بسر ميں ميانہ روی اور خرچ ميں کفايت۔ جو شخص قناعت ميں بزرگی چاہتا ہو اسے چاہے کہ صرف بضرورت خرچ کرے اور حَتَّی الاِْمکان اپنے اوپر عياشی کا دروازہ بند کرے ايک موٹے کھردرے کپڑے پر قناعت کرے اور جو کھانا ميسر ہو اسی پر صابر و شاکر ہو جس قدر ممکن ہو سالن کم استعمال کرے اور اپنے نفس کو اس بات کی عادت ڈالے۔ اگر وہ صاحبِ اولاد ہو تو ان کو بھی اسی مقدار پر رکھے کيوں کہ يہ مقدار ادنیٰ محنت سے بھی حاصل ہوجاتی ہے اور طلب بھی اچھی رہتی ہے قناعت کے سلسلے ميں اصل چيز اعتدال ہے اور اس سے ہماری (يعنی امام غزالی کی) مراد خرچ کرنے ميں نرمی اختيار کرنا اور بُرے طریقے سے بچنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: