| ضیائے صدقات |
فضالہ، پانی حضور انور علیہ السلام سے مانگا ہے بال اور تہبند شريف اپنی قبروں ميں لے گئے ہيں، حضور خواجہ اجميری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لنگر کا دليہ سلاطين دکن مانگ مانگ کر حاصل کرتے ہيں ہم کو اس پر فخر ہے ہم گدائے آستانہ غوثيہ ہيں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۱؎
لالچ فقر ہے اوردوسروں کے مال سے ناامید ہو جانا تونگری ہے۔ چنانچہ:عَنْ عُمَرَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: تَعْلَمُنَّ أَيھَا النَّاسُ! أَنَّ الطَّمْعَ فَقْرٌ، وَأَنَّ الإْياسَ غِنًی، وَأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا يءِسَ عَنْ شَيْءٍ اسْتَغْنٰی عَنْہُ. رواہ رَزين.۲؎
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: اے لوگو! یقين رکھو کہ لالچ فقيری ہے اور نااميدی غِنا ہے اور انسان جب کسی چيز سے مايوس ہوجاتا ہے تو اس سے لاپرواہ ہوجاتا ہے۔
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اسی لئے کہا جاتا ہے کہ مايوسی بھی ايک قسم کی راحت ہے، کسی نے حضرت ابو محسن شاذلی سے کيميا پوچھی، آپ نے فرمايا: مخلوق سے اميد توڑو اور تقدير پر شاکر رہو، سب سے بڑی کيميا يہ ہے، شعر:
آس بگزار بادشاہی کن ز گردن بے طمع بلند بود ۳؎
کسی دانا نے فرمايا کہ انسان کا معاملہ بھی عجيب ہے اگر اسے کہا جائے کہ تودنيا ميں ہميشہ رہے گا تو اسے جمع کرنے کی اس قدر حرص نہ ہوتی جتنی اب ہےمدینــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۶۶) ۲؎ (مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب من لا تحل لہ المسئلۃ ومن تحل لہ،الحديث:۱۸۵۶،ج۱،ص۳۵۳) ۳؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۶۷۔۶۸)