يعنی، زکوٰۃ کی فرضيت کا منکر کافرہے اور نہ دینے والا قتل کا مستحق ہے۔
شیخ شمس الدین تمرتاشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
فیاثم بتأخیرہاوترد شہادتہ۲؎
یعنی زکوۃ کی ادائیگی میں (بلا عذر) تاخیر کرنے والا گناہ گار اور مردود الشہادۃ ہے۔
چونکہ کتاب کا اصل مقصد نفلی صدقات کے فضائل اور اس کے متعلقات بیان کرناہے؛ لہٰذا فرض زکوٰۃ کے بيان کو ضمناً، تبرّکاً اور اختصاراً ذکر کيا جارہا ہے۔ اور زيادہ تر مسائل کا بيان بہارِ شريعت سے کيا جائے گا تاکہ صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا خصوصی فيض بھی حاصل رہے اور اجتناب از تطويل بھی ملحوظِ خاطر رہے۔ تفصيل کے لئے بہارِ شريعت کے پانچويں حصہ کا مطالعہ کريں۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (الفتاوی الھنديۃ المعروف بعالمکيريۃ،کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسيرھا وصفتھا وشرائطھا،ج۱،ص۱۷۰)
۲؎ (تنویرالأبصارمع الدر المختار،کتاب الزکاۃ،ج۳،ص۲۲۷،دارالمعرفۃ بیروت)